اسلام آباد میں کرکٹ سٹیڈیم کی تعمیر: خالد چوہدری کا سخت موقف
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق سینیئر نائب صدر اور ٹریڈرز ایکشن کمیٹی اسلام آباد کے سیکرٹری خالد چوہدری نے وفاقی دارالحکومت میں کرکٹ سٹیڈیم کی تعمیر کے حوالے سے سی ڈی اے کے حالیہ فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی ڈی اے نے پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) کو بیس سال قبل شکر پڑیاں میں کرکٹ سٹیڈیم کی تعمیر کے لیے زمین الاٹ کی تھی، تاہم پی سی بی مقررہ مدت میں تعمیر مکمل کرنے میں ناکام رہا۔
سی ڈی اے کے فنڈز کا استعمال: ایک غیر مناسب قدم
خالد چوہدری نے کہا کہ اب سی ڈی اے بورڈ نے اپنے 11 ارب روپے کے بجٹ سے سٹیڈیم تعمیر کرنے کا اعلان کیا ہے، جو اسلام آباد کے شہریوں کے مفادات کے منافی ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اتنی بڑی رقم کی ادائیگی سے شہر کے بنیادی ترقیاتی کاموں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ حالانکہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر جدید انڈور فائیو جی کا آغاز جیسے منصوبے شہر کی ضرورت ہیں، لیکن ایسے وقت میں جب ترقیاتی فنڈز کی پہلے ہی قلت ہے، میگا پراجیکٹ پر قومی خزانے کا بے دریغ خرچ درست نہیں۔
فنڈز کی کمی اور این ایف سی کا مسئلہ
سیکرٹری ٹریڈرز ایکشن کمیٹی نے مزید کہا کہ وفاقی دارالحکومت این ایف سی ایوارڈ کا حصہ نہیں ہے، اس لیے مرکزی حکومت سے اسلام آباد کو ترقیاتی فنڈز کی فراہمی نہیں ہوتی۔ انہوں نے شکایت کی کہ اسلام آباد ایکسائز کے محکمہ کی تقریباً پچاس بلین روپے کی سالانہ آمدن بھی مرکزی حکومت اپنے قبضے میں لے لیتی ہے، جس سے آئی سی ٹی کے اپنے ترقیاتی بجٹ میں شدید کمی واقع ہوتی ہے۔
خالد چوہدری نے چیف کمشنر آئی سی ٹی سہیل اشرف سے مطالبہ کیا کہ وہ ایکسائز کی آمدن کو اسلام آباد کے لیے مخصوص کرائیں تاکہ دیہی علاقوں میں بھی انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے کام کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت میڈیا ورکرز کے تحفظ اور شفاف ایڈورٹائزمنٹ پالیسی کیلئے پرعزم ہے، لہذا امید ہے کہ وزیراعظم میاں شہباز شریف اس صورتحال کا فوری نوٹس لیں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر کرکٹ سٹیڈیم بنانا ہے تو اس کا تمام خرچہ پی سی بی خود برداشت کرے، سی ڈی اے کے فنڈز کو شہریوں کی سہولیات پر خرچ کیا جائے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کی زیر صدارت پاکستان سول ایوارڈز کمیٹی کا اجلاس بھی منعقد ہوا جس میں قومی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
