حکومت میڈیا ورکرز کے تحفظ اور شفاف ایڈورٹائزمنٹ پالیسی کیلئے پرعزم ہے، وفاقی وزیر اطلاعات
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت میڈیا ورکرز کے تحفظ، مین اسٹریم میڈیا کے استحکام اور ایڈورٹائزمنٹ پالیسی میں شفافیت کے لیے موثر اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری اشتہارات کو میڈیا ملازمین کی فلاح و بہبود سے منسلک کیا جا رہا ہے اور ڈیجیٹل میڈیا کو پرنٹ یا الیکٹرانک میڈیا کی قیمت پر ہرگز فروغ نہیں دیا جا سکتا۔ اجلاس میں حکومت کی جانب سے ڈیجیٹل میڈیا کے لیے پی ٹی اے کے ضوابط کی طرز پر شفافیت یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔
ایڈورٹائزمنٹ پالیسی 2024ء میں اصلاحات
وفاقی وزیر نے بتایا کہ نئی ایڈورٹائزمنٹ پالیسی 2024ء کے تحت ویوز، امپریشنز اور ڈیجیٹل کارکردگی کے اشاریوں کی آزاد تھرڈ پارٹی تصدیق کا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی وی پہلی مرتبہ مالی طور پر مستحکم ہوا ہے، جبکہ فیفا ورلڈ کپ نشر کرنے والا پی ٹی وی سپورٹس واحد چینل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو مالی معاونت کی زیادہ ضرورت ہے جبکہ ڈیجیٹل میڈیا بڑی حد تک خودکفیل شعبہ ہے۔
میڈیا ورکرز کی فلاح و بہبود اور تحفظ
وفاقی وزیر نے کہا کہ میڈیا ورکرز کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور حکومت نے ملازمین کی سہولت کے لیے ہیلتھ کارڈ جیسے اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں کسی بھی میڈیا ادارے سے ملازم فارغ کیا جائے تو وہ اسے اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ انہوں نے سنو نیوز اور آج ٹی وی کے ملازمین کے بقایا جات کی ادائیگی میں حکومت کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے) کے ساتھ طے پایا ہے کہ سرکاری ادائیگیوں کو ملازمین کی تنخواہوں پر خرچ کیا جائے گا۔
پرنٹ میڈیا کی اہمیت اور مستقبل
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ اخبارات آج بھی معلومات کے معتبر اور ذمہ دار ذرائع ہیں اور حکومت ایف بی آر کی ٹیکس پالیسیوں کے تناظر میں میڈیا انڈسٹری کی معاونت کے لیے کوشاں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اخبارات کے ملازمین کے لیے امپلی منٹیشن ٹربیونل (آئی ٹی این ای) کے چیئرمین کی تقرری کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے اور جلد نوٹیفکیشن جاری کر دیا جائے گا۔ کمیٹی نے فلم ‘بلھے’ کے سنسر سرٹیفیکیشن کے معاملے پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور سینیٹر پرویز رشید نے اس حوالے سے تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ اجلاس میں سی ڈی اے حکام کو بھی طلب کیا گیا ہے تاکہ میڈیا کالونیوں کے مسائل حل کیے جا سکیں۔
