اسحاق ڈار کا ایرانی ہم منصب سے خطے کی کشیدگی پر تبادلہ خیال

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا ہے۔ اس دوران اسحاق ڈار نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ خطے میں امن کے قیام کے لیے تحمل و بردباری کا مظاہرہ کریں۔
سفارت کاری کے ذریعے امن کا قیام
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال اور امن و استحکام سے متعلق امور پر غور کیا ہے۔ اسحاق ڈار کی سعودی ہم منصب سے خطے کی کشیدگی پر گفتگو کے بعد ایران کے وزیر خارجہ سے یہ رابطہ انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ تنازعات کے پائیدار حل اور دیرپا امن کے قیام کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ہی واحد مؤثر راستہ ہیں۔
مفاہمتی یادداشت کی پاسداری
وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ تمام متعلقہ فریق جون میں اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے مطابق کشیدگی میں کمی اور تحمل و بردباری کا راستہ اختیار کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے اپنا تعمیری کردار جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
مستقبل میں رابطوں کا تسلسل
گفتگو کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ مستقبل میں بھی قریبی رابطے برقرار رکھیں گے اور خطے کی صورتحال کے پیش نظر باہمی مشاورت کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل آپریشن بنیانٌ مرصوص نے پاکستان کی تزویراتی بصیرت کو نمایاں کیا، احسن اقبال نے بھی ملکی خارجہ پالیسی کے حوالے سے اہم نکات اجاگر کیے تھے۔ جبکہ خطے کی صورتحال کے تناظر میں علاقائی کشیدگی کے بعد غیر ملکی ممالک پاکستان میں تیل ذخیرہ کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، جنید انوار نے بھی اہم حکومتی مؤقف پیش کیا تھا۔
