علاقائی کشیدگی کے بعد غیر ملکی ممالک پاکستان میں تیل ذخیرہ کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، جنید انوار
لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے میری ٹائم افیئرز محمد جنید انوار نے کہا ہے کہ حکومت کے انرجی سٹی منصوبے میں اہم پیش رفت ہو رہی ہے اور حالیہ علاقائی کشیدگی کے بعد کئی آئل پیدا کرنے والے ممالک پاکستان میں تیل ذخیرہ کرنے میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے تحت نجی کمپنیاں حکومت سے زمین کرائے پر حاصل کرکے جدید آئل اسٹوریج سہولیات قائم کریں گی جہاں تیل کو ڈیوٹی فری بنیادوں پر ذخیرہ اور برآمد کیا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس خود اتنا سرمایہ نہیں کہ بڑے پیمانے پر اسٹریٹجک ذخائر قائم کر سکے، تاہم اس ماڈل کے ذریعے نہ صرف سرمایہ کاری آئے گی بلکہ مشکل وقت میں یہ ذخائر ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی استعمال کیے جا سکیں گے۔
وہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورے کے موقع پر خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل نے ان کا خیر مقدم کیا۔ تقریب میں سینئر نائب صدر تنویر احمد شیخ، نائب صدر خرم لودھی، سابق صدور میاں انجم نثار، محمد علی میاں، سابق سینئر نائب صدر انجینئر خالد عثمان، نصراللہ مغل، ایگزیکٹو کمیٹی ممبران عمر سرفراز، سید حسن رضا، محسن بشیر، رانا شعبان اختر، ندیم انصاری، احد امین ملک، آصف خان، عرفان قریشی اور حافظ سجاد سمیت کاروباری برادری کی بڑی تعداد موجود تھی۔
بلیو اکانومی اور تجارتی مواقع
صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اپنی تقریبا ایک ہزار کلومیٹر طویل ساحلی پٹی اور اہم جغرافیائی محل وقوع کے باوجود بلیو اکانومی کی مکمل صلاحیت سے فائدہ نہیں اٹھا سکا۔ انہوں نے کہا کہ سمندری معیشت کے شعبے میں موجود مواقع سے بھرپور استفادہ کرکے پاکستان اربوں ڈالر کا اضافی زرمبادلہ حاصل کر سکتا ہے اور علاقائی تجارت میں اپنی اہمیت مزید بڑھا سکتا ہے۔ انہوں نے بندرگاہوں پر ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سامان کی کلیئرنس میں غیر ضروری تاخیر کاروباری لاگت میں اضافے اور عالمی مسابقت میں کمی کا سبب بنتی ہے۔ انہوں نے جدید آئی ٹی سسٹمز، خودکار کلیئرنس، موثر اسکینرز، ویسل ٹریفک مینجمنٹ سسٹمز اور مختلف اداروں کے درمیان مکمل ڈیجیٹل انضمام کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔
وزارتِ بحری امور کی کارکردگی اور اصلاحات
وفاقی وزیر محمد جنید انوار نے کہا کہ وزارت میری ٹائم افیئرز نے اب تک 100 سے زائد اصلاحاتی اقدامات کیے ہیں جبکہ کراچی پورٹ ٹرسٹ اور پورٹ قاسم کی عالمی رینکنگ میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی پورٹ ٹرسٹ 99 ویں نمبر سے 69 ویں نمبر پر آگیا ہے جبکہ پورٹ قاسم کی رینکنگ بہتر ہو کر 56 ویں نمبر پر پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی پورٹ ٹرسٹ نے رواں سال اپنی 138 سالہ تاریخ کا ریکارڈ توڑا جبکہ ادارے کا منافع 18.8 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے فلیٹ میں تین نئے جہاز شامل کیے گئے ہیں جس سے مجموعی استعداد میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے اور مستقبل میں مزید توسیع کی جائے گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ بحران کے دوران ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قلت نہ ہونے میں وزارت میری ٹائم افیئرز کا کلیدی کردار رہا۔ ایک جہاز جس کا کرایہ 14 ملین ڈالر تھا، اسے 0.8 ملین ڈالر پر حاصل کیا گیا تاکہ ایندھن کی درآمد بلا تعطل جاری رہ سکے۔ انہوں نے کہا کہ جنگی حالات کے دوران لاجسٹکس کے مسائل کے پیش نظر ٹرانس شپمنٹ پر پورٹ چارجز میں 50 فیصد تک کمی کی گئی جس سے کاروباری برادری کو ریلیف ملا۔ یہ اقدامات ملکی معیشت کے استحکام کے لیے کلیدی ہیں۔
مستقبل کے منصوبے اور سرمایہ کاری
محمد جنید انور نے کہا کہ فلوٹنگ ایل این جی ٹرمینل کے علاوہ لینڈ بیسڈ ایل این جی ٹرمینل کے قیام کی تکنیکی اسٹڈی مکمل کر لی گئی ہے اور اس منصوبے میں 3 سے 4 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پورٹ قاسم میں 1.4 ارب ڈالر کی لاگت سے ”سی ٹو اسٹیل” شپ بلڈنگ منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے جبکہ ملٹی پرپز کارگو ٹرمینل، انٹی گریٹڈ آئل ٹرمینل اسٹوریج اور نئے کنٹینر ٹرمینل بھی قائم کیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ منوڑہ شپ یارڈ کو دوبارہ فعال بنایا جا رہا ہے تاکہ جہازوں کی مرمت اور سروسنگ کے لیے سنگاپور یا چین جانے کی ضرورت نہ رہے۔ فشریز سیکٹر کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فشریز برآمدات کا 500 ملین ڈالر کا ہدف عبور کرتے ہوئے 568 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہیں جبکہ ٹیونا فش پاکستان کے لیے اربوں ڈالر کی برآمدی صلاحیت رکھتی ہے۔
قومی شپنگ لائن کو مضبوط کرنے کی ضرورت
صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ بحری شعبے میں بھی اصلاحات ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر سال تقریبا 5 ارب ڈالر سمندری فریٹ کی مد میں بیرون ملک ادا کرتا ہے۔ اگر قومی شپنگ لائن کو مزید مضبوط بنایا جائے، اس کے فلیٹ میں اضافہ کیا جائے اور مزید کنٹینر بردار جہاز شامل کیے جائیں تو قیمتی زرمبادلہ کا بڑا حصہ ملک میں ہی محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شپ بلڈنگ، شپ ری سائیکلنگ اور فشریز کے شعبوں میں وسیع مواقع موجود ہیں جن سے نہ صرف برآمدات میں اضافہ ہوگا بلکہ ہزاروں نئی ملازمتیں بھی پیدا ہوں گی۔ انہوں نے کورنگی فش ہاربر کی تکمیل، بندرگاہی اصلاحات، ڈریجنگ، قومی پورٹس ڈویلپمنٹ پلان اور کاروبار دوست قوانین کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ لاہور چیمبر میری ٹائم افیئرز کی وزارت کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔
