مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
پیر، 12 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.21 EUR/PKR 310.55 GBP/PKR 366.87 سونا/تولہ 433,730 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $83,309 USD/PKR 277.21 EUR/PKR 310.55 GBP/PKR 366.87 سونا/تولہ 433,730 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $83,309
قومی

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا بنیادی مراکز صحت کو ڈیجیٹلائز کرنے کا اعلان

📅 جمعہ، 10 جولائی 2026 ✍️ Dost news ⏱ 4 منٹ
تصویر
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر قومی صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ بنیادی مراکز صحت معمولی بیماریوں کے علاج، زچگی اور بنیادی طبی خدمات کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، اب تک ساڑھے 14 ہزار سے زائد افراد ٹیلی میڈیسن سینٹرز کے ذریعے طبی مشاورت اور علاج کی سہولت حاصل کر چکے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بنیادی مرکز صحت پھلگراں کو ڈیجیٹلائزڈ ہیلتھ سینٹر میں تبدیل کرنے کے منصوبے کے افتتاح کے موقع پر کیا۔ وفاقی وزارت قومی صحت کے تحت ہیلتھ کیئر ڈیجیٹلائزیشن پروگرام کے سلسلے میں اسلام آباد کے بنیادی مرکز صحت پھلگراں کو جدید ڈیجیٹلائزڈ ہیلتھ سینٹر میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر قومی صحت مصطفیٰ کمال نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج نویں ٹیلی میڈیسن سینٹر کا افتتاح کیا جا رہا ہے جو عوام کو جدید اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

صحت سہولت پروگرام کی فعالیت اور اہمیت

انہوں نے کہا کہ صحت سہولت پروگرام کے تحت ملک بھر میں 9,502 بیڈز اور 44 ہسپتالوں کا اضافہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم کی خصوصی توجہ سے چار سال سے معطل صحت سہولت پروگرام کو دوبارہ فعال کیا گیا جس کے تحت شہری 10 لاکھ روپے تک علاج کی سہولت حاصل کر سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ موجودہ حکومت صحت کے شعبے میں شفافیت لانے کے لیے کوشاں ہے، جیسا کہ حال ہی میں اسلام آباد ایکسائز کا شاندار کارنامہ، 25.43 ارب روپے کا ریکارڈ ریونیو سامنے آیا ہے جو انتظامی بہتری کی مثال ہے۔

صحت کے شعبے میں اصلاحات اور پالیسی سازی

وفاقی وزیر قومی صحت نے کہا کہ حکومت کا بنیادی کردار صحت کے شعبے میں موثر پالیسیاں مرتب کرنا اور ان پر عمل درآمد یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو براہ راست ہسپتال چلانے کی بجائے پالیسی سازی، نگرانی اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ صحت کا مجموعی بجٹ 1,153 ارب روپے ہے، اس کے باوجود عوام کی شکایات برقرار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر موثر ہیلتھ انشورنس نظام نافذ کیا جائے تو تقریباً 210 ارب روپے کے ذریعے 90 فیصد آبادی کو بہتر اور اطمینان بخش طبی سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں۔

دور دراز علاقوں تک رسائی کا عزم

وزارت صحت ملک بھر میں جاری ترقیاتی کاموں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، جیسے کہ نجکاری کمیشن بورڈ کا اسلام آباد ایئرپورٹ آؤٹ سورسنگ پر اہم فیصلہ ایک اہم پیش رفت ہے۔ وفاقی وزیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وزارت صحت جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹلائزیشن اور ٹیلی میڈیسن کے ذریعے ملک کے دور دراز علاقوں تک معیاری صحت کی سہولیات پہنچانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔ حکومت اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ جس طرح اسلام آباد میں پولیس اہلکار بن کر وارداتیں کرنے والا ملزم گرفتار ہوا اور قانون کی بالادستی قائم ہوئی، اسی طرح صحت کے شعبے میں بھی بدعنوانی اور غفلت کا خاتمہ کیا جائے۔

ٹیگز: #اسلام آباد #ٹیلی میڈیسن #ڈیجیٹل ہیلتھ #صحت #مصطفیٰ کمال
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں