کارانداز پاکستان: خواتین کی معاشی و ڈیجیٹل شمولیت کیلئے نظام میں تبدیلی پر زور
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ کارانداز پاکستان نے قومی ڈیجیٹل اور مالیاتی نظام میں صنفی مساوات کو مؤثر طور پر شامل کرنے کے لیے اپنی کوششوں کو مزید تیز کرتے ہوئے، محدود اور انفرادی نوعیت کے اقدامات سے آگے بڑھ کر نظام کی سطح پر ہم آہنگی کو فروغ دینے پر زور دیا ہے۔ اپنے ویمن اکنامک اینڈ ڈیجیٹل انکلوژن (WEDI) اقدام کے تحت، کارانداز پاکستان نے ملک کے سرکردہ مالیاتی اور ریگولیٹری اداروں، نیز ترقیاتی شراکت داروں کو ’’خواتین کی معاشی شمولیت کے لیے نظام میں تبدیلی کا فروغ‘‘ کے عنوان سے منعقدہ ایک اسٹریٹجک فورم میں یکجا کیا۔ یہ فورم، ادارہ کی سطح پر، کارانداز کے اُس عزم کو مزید مستحکم کرنے اور اہداف کے مطابق ایسی مداخلتوں کو اجاگر کرنے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہوا، جن کا مقصد صنفی بنیادوں پر موجود معاشی عدم مساوات کو ختم کرنا اور خواتین کی معاشی و ڈیجیٹل شمولیت کو فروغ دینا ہے۔
قومی سطح پر صنفی عدم مساوات اور مالیاتی شمولیت کی صورتحال
اس فورم میں، پاکستان میں موجود صنفی تفاوت کے دیرینہ مسئلے کو اجاگر کیا گیا، جہاں خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت کی شرح اب بھی 25 فیصد سے کم ہے، جبکہ کارانداز فنانشل انکلوژن سروے (K-FIS 2024 کے مطابق رسمی مالیاتی اکاؤنٹس کی ملکیت میں خواتین کا تناسب محض 14 فیصد ہے، جو نہایت کم اور غیر متناسب ہے۔ قومی مالیاتی شمولیت کے اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے، تقریب میں کارانداز کی صنفی رہنما، سمیہ سالک نے ادارے کی ارتقا پذیر صنفی حکمتِ عملی (Gender Strategy) کو باضابطہ طور پر پیش کیا۔ اسی کے ساتھ، مختلف اسٹریٹجک منصوبوں کے اعلانات اور شراکت دار اداروں کی نمایاں کاوشوں کو بھی پیش کیا گیا، تاکہ خواتین کی معاشی اور مالیاتی شمولیت کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ کوششوں کو مزید تقویت فراہم ہو سکے۔
مالی شمولیت، معاشی استحکام اور ڈیجیٹل نظام کی اہمیت
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کارانداز پاکستان میں بورڈ ممبر، کیرل کوائے بینسن (Carol Coye Benson) نے صنفی شمولیت کے حوالے سے ادارے کے وژن پر زور دیتے ہوئے کہا:”مالی شمولیت، معاشی استحکام کو فروغ دینے کا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ کارانداز کے ذریعے ہم ایسے ڈیجیٹل مالیاتی نظام تشکیل دینے کے لیے کام کر رہے ہیں جو ابتدا ہی سے سب کے لیے یکساں طور پر قابلِ رسائی ہوں۔ باہمی مربوط ڈیجیٹل راستے قائم کرکے اور خواتین کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نظام وضع کرکے ہم معاشی امکانات کے ایک وسیع اور غیر استعمال شدہ صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکتے ہیں۔ خواتین کو مالیاتی سہولیات تک قابلِ اعتماد اور ڈیجیٹل رسائی فراہم کرنا نہ صرف خاندانوں بلکہ مجموعی ملکی معیشت کو بھی مضبوط بنانے کے لیے نہایت اہم ہے، کیونکہ اس کے ذریعے محروم اور کم مراعات یافتہ خواتین کو باضابطہ مالیاتی نظام کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔“
فنانشل انکلوژن فار ویمن چیلنج (FIWC) راؤنڈ 5 کے معاہدے
اس موقع پر تقریب کی ایک اہم پیش رفت فنانشل انکلوژن فار ویمن چیلنج (FIWC) راؤنڈ 5 کے معاہدوں پر دستخط کی تقریب تھی، جس کے تحت موبی لنک مائیکروفنانس بینک لمیٹڈ (MMBL) اور منزل آرگنائزیشن کے ساتھ شراکت داری کا باضابطہ آغاز کیا گیا۔ کارانداز کے تعاون سے MMBL زرعی شعبے سے وابستہ 50,000 خواتین کو اپنی دُوست ایپ (Dost App) کے ذریعے ڈیجیٹل بینکاری خدمات فراہم کرے گا، جس میں مالیاتی آگاہی، صحت کی مفت سہولیات اور بچت کی مصنوعات بھی شامل ہوں گی۔ اسی طرح ایک اور شراکت دار منزل آرگنائزیشن بلوچستان کی 9,000 دیہی خواتین کو زرعی زمین، زرعی کٹس کی فراہمی اور نصیرآباد میں خصوصی کمیونٹی مارکیٹوں کے قیام کے ذریعے بااختیار بنائے گی۔
ویمن وینچرز شوکیس: تعلیمی SMEs کے لیے مالیاتی خلا پُر کرنا
ویمن وینچرز شوکیس کے دوران تعلیمی شعبے سے وابستہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) کے لیے مالیاتی خلا کو کم کرنے کے مقصد سے ایک اسٹریٹجک شراکت داری کو اجاگر کیا گیا۔ اس اقدام کو کارانداز کی ڈائریکٹر برائے انوویشن انویسٹمنٹس شمائلہ رفاقت اور تعلیم فنانس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کامران عظیم نے پیش کیا۔
یہ تعاون کم لاگت والے نجی اسکولوں کے لیے ترقیاتی سرمایہ کی ضروریات کو پورا کرنے کی غرض سے ہے، جو اس وقت کمرشل بینکوں کی خدمات حاصل کرنے سے محروم ہیں۔ اس اقدام کا مقصد، مخصوص اور موزوں سرمایہ فراہم کرکے کلاس رومز کی تعداد کو بڑھانا اور اسکولوں کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانا ہے۔ ان اقدامات سے طالبات کے لیے زیادہ محفوظ تعلیمی ماحول میسر آئے گا اور ان کے تعلیم جاری رکھنے کی شرح میں براہِ راست اضافہ ہوگا۔
پینل مباحثہ: پائیدار اور جامع معاشی مواقع
تقریب میں ایک پینل مباحثہ بھی منعقد ہوا جس میں سرکاری، نجی اور ترقیاتی شعبوں سے تعلق رکھنے والے ممتاز رہنماؤں نے خواتین کے لیے پائیدار اور جامع معاشی مواقع پر تبادلہ خیال کیا۔ جینڈر اور پالیسی ماہر عائشہ شجاعت کی میزبانی میں ہونے والے اس سیشن میں عامر حفیظ ابراہیم (سی ای او و صدر جاز ورلڈ، چیئرمین موبی لنک بینک اور جاز کیش)، مصدق ذوالقرنین (چیئرمین انٹرلوپ لمیٹڈ اور بورڈ ممبر کارانداز پاکستان)، جمشید ایم قاضی (کنٹری ریپریزنٹیٹو، یو این ویمن پاکستان) اور ثنا مسعود (سینئر پبلک سیکٹر اسپیشلسٹ، ایشیائی ترقیاتی بینک) نے شرکت کی۔ شرکاء نے ماحولیاتی نظام میں ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے ضابطہ جاتی فریم ورک اور مؤثر ماڈلز کا تنقیدی جائزہ لیا۔
بین الاقوامی ترقیاتی تعاون کی اہمیت
اپنے کلیدی خطاب میں برطانوی ہائی کمیشن اسلام آباد میں اکنامکس اینڈ ٹریڈ کی کونسلر اور گروپ ہیڈ ڈاکٹر ایلینا مائلونا (Dr. Elena Mylona)نے بین الاقوامی ترقیاتی تعاون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا،”خواتین پر مبنی معاشی ترقی کی رفتار برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ مارکیٹوں اور مالیاتی نظام میں تبدیلیوں کو ادارہ کی سطح پر مستقل بنیادوں پر نافذ کیا جائے۔ کارانداز جیسے ماحولیاتی نظام تشکیل دینے والے اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کے درمیان اسٹریٹجک تعاون ساختی رکاوٹوں کو ختم کرنے اور خواتین کو حقیقی معاشی خودمختاری فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔“
خواتین کی شمولیت: قومی معاشی ترقی کی ناگزیریت
اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کارانداز پاکستان کے چیئرمین سید سلیم رضانے صنفی شمولیت کے حوالے سے ادارے کے وژن پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا، معیشت کے رسمی شعبے میں خواتین کی شمولیت میں اضافہ قومی معاشی ترقی، گھریلو استحکام، اور پائیدار ترقی کے نتائج کے لیے ناگزیر ہے۔ کارانداز اب انفرادی اقدامات سے آگے بڑھتے ہوئے اپنی سرمایہ کاری، جدت اور ایکو سسٹم سے متعلق تمام سرگرمیوں میں خواتین کی شمولیت کو مرکزی حیثیت دے رہا ہے۔ آج ہماری کوشش کا مقصد ریگولیٹرز، ترقیاتی اداروں اور نجی شعبے کے ساتھ مضبوط اشتراک قائم کرنا تھا تاکہ ڈیجیٹل اور مالیاتی رسائی اور آگاہی کے ان خلا کو ختم کیا جا سکے جو خواتین کی پاکستان کی ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت میں مکمل شرکت کی راہ میں حائل ہیں۔
مسلسل تحقیق، ماحولیاتی نظام میں سرمایہ کاری اور اسٹریٹجک شراکت داریوں کے ذریعے کارانداز پاکستان ایسے قابلِ توسیع حل متعارف کرانے کے لیے کوشاں ہے جو ملک میں صنفی تفاوت کو کم کریں اور جامع و پائیدار معاشی ترقی کو فروغ دیں۔
