مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
جمعہ، 2 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 429,210 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $85,385 USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 429,210 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $85,385
تعلیم

نئے مالی سال میں تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس کے نئے سلیبس کا نفاذ

📅 جمعرات، 25 جون 2026 ✍️ Dost news ⏱ 5 منٹ
نئے مالی سال میں تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس کے نئے سلیبس کا نفاذ
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد: نئے مالی سال 2026-27 کے آغاز کے ساتھ ہی یکم جولائی سے تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس کے نئے سلیبس نافذ ہو جائیں گے، جن کے تحت لاکھوں ملازمین کی ماہانہ تنخواہوں سے کٹوتی کی شرح تبدیل ہو جائے گی۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ نئے نظام کے ذریعے کم اور درمیانی آمدن والے ملازمین کو کچھ ریلیف دیا گیا ہے، جبکہ زیادہ آمدن رکھنے والے افراد کے لیے ٹیکس ڈھانچے کو ازسرِ نو ترتیب دیا گیا ہے۔

نئے مالی سال میں سالانہ 6 لاکھ روپے (ماہانہ 50 ہزار روپے) تک آمدن رکھنے والے افراد بدستور انکم ٹیکس سے مستثنیٰ رہیں گے۔ اس حد سے زیادہ آمدن رکھنے والوں پر مرحلہ وار ٹیکس لاگو ہوگا۔

نئے انکم ٹیکس سلیبس

سالانہ آمدن | ٹیکس

    6 لاکھ روپے تک | صفر

    6 لاکھ سے 12 لاکھ روپے | 1 فیصد

    12 لاکھ سے 22 لاکھ روپے | 6 ہزار روپے + اضافی آمدن پر 11 فیصد

    22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے | 1 لاکھ 16 ہزار روپے + اضافی آمدن پر 20 فیصد

    32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے | 3 لاکھ 16 ہزار روپے + اضافی آمدن پر 25 فیصد

    41 لاکھ سے 56 لاکھ روپے | 5 لاکھ 41 ہزار روپے + اضافی آمدن پر 29 فیصد

    56 لاکھ سے 70 لاکھ روپے | 9 لاکھ 76 ہزار روپے + اضافی آمدن پر 32 فیصد

    70 لاکھ روپے سے زائد | 14 لاکھ 24 ہزار روپے + اضافی آمدن پر 35 فیصد

    ماہانہ تنخواہ پر کتنا اثر پڑے گا؟

      ماہانہ 75 ہزار روپے تنخواہ (سالانہ 9 لاکھ روپے)

      قابل ٹیکس آمدن: 3 لاکھ روپے

      سالانہ ٹیکس: 3 ہزار روپے

      ماہانہ کٹوتی: تقریباً 250 روپے

      ماہانہ 1 لاکھ روپے تنخواہ (سالانہ 12 لاکھ روپے)

      سالانہ ٹیکس: 6 ہزار روپے

      ماہانہ کٹوتی: تقریباً 500 روپے

      ماہانہ 1 لاکھ 50 ہزار روپے تنخواہ (سالانہ 18 لاکھ روپے)

      ٹیکس = 6,000 + (6 لاکھ × 11%)

      سالانہ ٹیکس: 72 ہزار روپے

      ماہانہ کٹوتی: تقریباً 6 ہزار روپے

      ماہانہ 2 لاکھ روپے تنخواہ (سالانہ 24 لاکھ روپے)

      ٹیکس = 1,16,000 + (2 لاکھ × 20%)

      سالانہ ٹیکس: 1 لاکھ 56 ہزار روپے

      ماہانہ کٹوتی: تقریباً 13 ہزار روپے

      ماہانہ 3 لاکھ روپے تنخواہ (سالانہ 36 لاکھ روپے)

      ٹیکس = 3,16,000 + (4 لاکھ × 25%)

      سالانہ ٹیکس: 4 لاکھ 16 ہزار روپے

      ماہانہ کٹوتی: تقریباً 34 ہزار 667 روپے

      ماہانہ 5 لاکھ روپے تنخواہ (سالانہ 60 لاکھ روپے)

      ٹیکس = 9,76,000 + (4 لاکھ × 32%)

      سالانہ ٹیکس: 11 لاکھ 4 ہزار روپے

      ماہانہ کٹوتی: تقریباً 92 ہزار روپے

      سب سے زیادہ فائدہ کس کو ہوگا؟

      نئے ٹیکس ڈھانچے میں سب سے زیادہ فائدہ ان ملازمین کو ہوگا جن کی آمدن 22 لاکھ سے 70 لاکھ روپے سالانہ کے درمیان ہے۔ گزشتہ نظام میں بعض سلیبس پر ٹیکس کی شرح 23، 30 اور 35 فیصد تک تھی، جبکہ اب درمیانی آمدن والوں کے لیے 20، 25، 29 اور 32 فیصد کے نئے مراحل متعارف کرائے گئے ہیں، جس سے کئی ملازمین کے مجموعی ٹیکس بوجھ میں کمی آئے گی۔

      تنخواہ دار طبقے پر مجموعی اثر

      ماہرین کے مطابق اگرچہ کم آمدن والے ملازمین کے لیے ریلیف محدود ہے، تاہم درمیانی اور نسبتاً زیادہ آمدن رکھنے والے تنخواہ دار افراد کو نئے سلیبس کے باعث سالانہ ہزاروں سے لاکھوں روپے تک کی بچت ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب مہنگائی، بجلی و گیس کے بلوں اور دیگر اخراجات میں اضافے کے باعث یہ ریلیف عملی طور پر کتنا مؤثر ثابت ہوگا، اس کا اندازہ آئندہ چند ماہ میں ہو سکے گا۔

      اہم بات

      یہ ٹیکس مجموعی تنخواہ پر نہیں بلکہ قابلِ ٹیکس آمدن کے متعلقہ حصے پر لگایا جاتا ہے۔ اس لیے کئی ملازمین یہ سمجھتے ہیں کہ نئی شرح لاگو ہوتے ہی پوری تنخواہ پر اتنا ہی ٹیکس کٹ جائے گا، حالانکہ پاکستان کا انکم ٹیکس نظام مرحلہ وار (Progressive Tax System) ہے اور ہر شرح صرف متعلقہ آمدنی کے حصے پر لاگو ہوتی ہے۔

      نتیجہ: یکم جولائی کے بعد زیادہ تر تنخواہ دار افراد کی تنخواہ سے ٹیکس کٹوتی کا طریقہ تبدیل ہوگا۔ کم آمدن والے ملازمین پر اثر محدود رہے گا جبکہ درمیانی اور اعلیٰ آمدن والے طبقے کے لیے نئے سلیبس مجموعی طور پر نسبتاً بہتر تصور کیے جا رہے ہیں۔

ٹیگز: #انکم ٹیکس #تنخواہ دار طبقہ #ٹیکس سلیبس #مالی سال #وفاقی حکومت
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں