مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 3 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 430,384 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,532 USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 430,384 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,532
تعلیم

عالمی ڈیٹا نیٹ ورک کا پے لوڈ ڈی کوڈنگ سسٹم ناکام، شدید تکنیکی بحران

📅 پیر، 15 جون 2026 ✍️ Dost news ⏱ 4 منٹ
تصویر
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ عالمی مواصلاتی نیٹ ورکس اور جدید ڈیٹا سسٹمز کو اس وقت ایک شدید بحران کا سامنا کرنا پڑا جب 14 جون 2026 کو ایک بڑے مواصلاتی نیٹ ورک کے پے لوڈ ڈی کوڈنگ (Payload Decoding) کا عمل مکمل طور پر ناکام ہو گیا۔ اس اچانک تکنیکی خرابی کے باعث دنیا بھر میں تیز رفتار ڈیٹا کی ترسیل اور مخصوص مواصلاتی سگنلز کی منتقلی عارضی طور پر معطل ہو گئی ہے جس سے متعدد اہم ڈیجیٹل شعبے متاثر ہوئے ہیں۔

پے لوڈ ڈی کوڈنگ سسٹم کی ناکامی اور اس کے محرکات

تکنیکی ماہرین کے مطابق، پے لوڈ ڈی کوڈنگ ایک ایسا نازک عمل ہے جس کے ذریعے سیٹلائٹ یا ڈیٹا بیس سے موصول ہونے والے کوڈ شدہ (انکرپٹڈ) ڈیٹا کو قابل استعمال معلومات میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ 14 جون 2026 کو موصول ہونے والے پے لوڈز کے فارمیٹ میں غیر متوقع تبدیلی یا سافٹ ویئر بگ کے باعث ڈی کوڈنگ کا عمل ناکام ہو گیا، جس کی وجہ سے خودکار سسٹمز نے ڈیٹا وصول کرنا بند کر دیا۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ مسئلہ بظاہر کسی بیرونی سائبر حملے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک بڑے مربوط سسٹم کی اپ گریڈیشن کے دوران پیدا ہونے والی کوڈنگ کی غلطی ہے۔ عالمی سطح پر رونما ہونے والے ایسے تکنیکی مسائل کی رپورٹس اور بین الاقوامی سائنس و ٹیکنالوجی کی کوریج اکثر بی بی سی اردو پر دیکھی جا سکتی ہے۔

عالمی مواصلاتی شعبے اور سروسز پر اثرات

اس سنگین تکنیکی تعطل نے نہ صرف خلائی مواصلاتی رابطوں کو متاثر کیا ہے بلکہ اس کے اثرات عالمی بینکنگ، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور ڈیٹا سینٹرز پر بھی دیکھے جا رہے ہیں۔ جہاں ایک طرف پاکستانی معیشت بحالی کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، وہیں عالمی سطح کے ایسے تکنیکی خلل مقامی مالیاتی اور مواصلاتی رابطوں کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔ دنیا بھر میں مالیاتی اداروں کے مابین محفوظ ڈیٹا ٹرانسمیشن کے پے لوڈز ڈی کوڈ نہ ہونے کی وجہ سے بین الاقوامی لین دین میں جزوی تاخیر کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ سائبر سیکیورٹی اور عالمی نیٹ ورک کی بحالی کے ماہرین اس فالٹ کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر سرگرم عمل ہیں، جبکہ اس حوالے سے سرکاری ذرائع اور ریڈیو پاکستان کے خصوصی نشریاتی بلیٹنز سے بھی معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔

ماہرین کی آراء اور بحالی کے اقدامات

نیٹ ورک انجینئرز کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ڈیٹا پیکٹس کے پے لوڈ فارمیٹ کو دوبارہ پرانے محفوظ ورژن پر رول بیک (Rollback) کیا جا رہا ہے۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ آئندہ چند گھنٹوں میں متاثرہ سسٹم کو مکمل طور پر بحال کر دیا جائے گا۔ تاہم، اس واقعے نے مستقبل کے ڈیٹا انفراسٹرکچر کی حفاظت، ڈیٹا پروٹوکولز کی پائیداری اور ہنگامی بیک اپ سسٹمز کی افادیت پر ایک بار پھر کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اس نوعیت کے اہم عالمی امور اور ملکی سطح پر ترقیاتی منصوبوں پر تبادلہ خیال کے سلسلے میں حال ہی میں وزیراعظم شہباز شریف سے ارکان قومی اسمبلی کی اہم ملاقاتیں بھی ہوئیں جن میں مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کی حکمت عملی پر بات چیت کی گئی۔

ٹیگز: #پے لوڈ ڈی کوڈنگ #ٹیکنالوجی #ڈیٹا نیٹ ورک #سائبر سیکیورٹی
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں