کامسیٹس یونیورسٹی کے طلباء کا پارلیمنٹ ہاؤس کا خصوصی مطالعاتی دورہ

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کے 47 رکنی طلباء و طالبات کے وفد نے آج پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کا مطالعاتی دورہ کیا۔ پارلیمنٹ ہاؤس آمد پر سینیٹ سیکریٹریٹ کے حکام نے وفد کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔
سینیٹ میوزیم اور تاریخی ورثے کا مشاہدہ
مطالعاتی دورے کے دوران وفد نے سینیٹ میوزیم کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر طلباء و طالبات نے پارلیمانی تاریخ، سینیٹ کے قیام و ارتقاء، جمہوری سفر اور ملک کے قانون ساز اداروں سے متعلق تاریخی و معلوماتی مواد کا مشاہدہ کیا۔ طلباء کو ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی جس میں پارلیمانی نظام کی تاریخ اور پاکستان کے جمہوری اداروں کی تشکیل و ترقی کے مراحل کو اجاگر کیا گیا۔ یاد رہے کہ علاج کی سہولیات ہر قیدی کا حق ہیں، طلال چوہدری کا بیان جیسے امور کی طرح پارلیمانی امور پر آگاہی بھی طلباء کی تربیت کا اہم حصہ ہے۔
گلی دستور اور آئینی بالادستی پر بریفنگ

وفد نے گلی دستور کا بھی دورہ کیا، جہاں انہیں آئینِ پاکستان، پارلیمانی نظام، آئینی بالادستی اور ریاستی و جمہوری اداروں کی اہمیت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر طلباء و طالبات نے آئینی و پارلیمانی امور سے متعلق مختلف سوالات کیے، جن کے حکام کی جانب سے تسلی بخش جوابات فراہم کیے گئے۔ یہ تعلیمی سرگرمیاں ملکی ترقی کے لیے ضروری ہیں، جیسے کہ بلوچستان میں امن و ترقی کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتوں کے روابط ضروری ہیں، صدر زرداری کی وزیر اعلی سے گفتگو کے حوالے سے بھی وقتاً فوقتاً اہم پیغامات دیے جاتے رہے ہیں۔
سینیٹ ہال کا دورہ اور پارلیمانی کارروائی سے آگاہی
وفد نے سینیٹ ہال کا بھی دورہ کیا، جہاں انہیں ایوانِ بالا کے اجلاس، پارلیمانی کارروائی، قانون سازی کے مراحل اور سینیٹ کے آئینی کردار کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وفد کو بتایا گیا کہ سینیٹ وفاق کی تمام اکائیوں کو مساوی نمائندگی فراہم کرنے والا اہم پارلیمانی ادارہ ہے جو وفاقی اکائیوں کے مفادات کے تحفظ اور قومی قانون سازی کے عمل میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ چیئرمین سینیٹ کا پاکستان پرتگال تجارتی تعلقات مضبوط بنانے پر زور جیسے اقدامات ملکی وقار میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔
طلباء کا تاثرات اور جمہوری شعور
دورے کے اختتام پر طلباء و طالبات نے پارلیمنٹ ہاؤس کے اس مطالعاتی دورے کو نہایت مفید، معلوماتی اور یادگار قرار دیا۔ انہوں نے اپنے تاثرات میں کہا کہ ایسے مطالعاتی دورے نوجوان نسل میں جمہوری شعور، آئینی آگاہی اور پارلیمانی اقدار کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
