پاکستانی معیشت بحالی کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، محمد اورنگزیب

اسلام آباد (ریڈیو پاکستان / اے پی پی)۔ وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت اب بحالی اور استحکام کے واضح مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں ملکی معیشت کی ترقی کے لیے ایک درست اور واضح سمت کا تعین کر دیا گیا ہے۔ امریکی مالیاتی ادارے ‘بلوم برگ’ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں وفاقی وزیر خزانہ نے ملکی اقتصادی صورتحال کا تفصیلی احاطہ کیا، جس کی تفصیلات بی بی سی اردو اور دیگر عالمی جرائد میں بھی زیر بحث آئی ہیں، اور مستقبل کے معاشی روڈ میپ پر روشنی ڈالی۔
معاشی نمو میں تیزی اور مہنگائی میں کمی
وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ حکومت کی موثر معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں اب پاکستانی معیشت میں مثبت تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک میں معاشی سرگرمیوں اور نمو کی رفتار میں بتدریج تیزی آ رہی ہے جبکہ دوسری جانب مہنگائی کی شرح میں نمایاں اور واضح کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے، جو کہ عام آدمی کے لیے ایک بڑا ریلیف ہے۔
مالیاتی خسارے میں تاریخی کمی
مالیاتی شعبے کی کارکردگی پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ اس وقت پاکستان کی مالیاتی صورتحال انتہائی حوصلہ افزا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ حکومت کے سخت گیر اقدامات کی بدولت مالیاتی خسارہ تاریخ کی کم ترین سطح پر آ چکا ہے اور ہم بجٹ میں بنیادی سرپلس (پرائمری سرپلس) حاصل کرنے میں کامیابی سے ہمکنار ہوئے ہیں، جو معاشی استحکام کی جانب ایک بڑا سنگ میل ہے۔
زرمبادلہ کے ذخائر اور درآمدی تحفظ
ملک کے بیرونی کھاتوں اور زرمبادلہ کے ذخائر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان کے پاس اس وقت کم از کم تین ماہ کی درآمدات کے مساوی زرمبادلہ کے ذخائر موجود ہیں جو کہ ملکی معیشت کو بیرونی جھٹکوں سے بچانے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ طویل المدتی معاشی استحکام حاصل کرنے کے لیے بالآخر ہمیں درآمدات پر انحصار کم کر کے برآمدات پر مبنی معاشی نمو (Export-Led Growth) کی جانب پیش قدمی کرنا ہو گی۔
آئندہ مالی سال کا بجٹ اور ترقیاتی حکمت عملی
سینیٹر محمد اورنگزیب نے زور دے کر کہا کہ آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں حکومت نے واضح طور پر ایک نئی معاشی سمت کا تعین کیا ہے۔ بجٹ کے حوالے سے کی جانے والی اصلاحات کے تحت حکومت کی جانب سے پاکستان کی آٹو انڈسٹری اور گاڑیوں کے لیے نئی پالیسی متعارف کروائی جا رہی ہے۔ اب ہمارا ہدف صرف معاشی استحکام تک محدود رہنا نہیں ہے، بلکہ ہم اس پائیدار استحکام کے مرحلے سے باہر نکل کر ملک کو پائیدار، مستحکم اور وسعت پذیر اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے پرعزم ہیں تاکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔ اس معاشی نمو کے سفر میں تعلیمی شعبے کی اہمیت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، یہی وجہ ہے کہ یہ مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں کہ وزیراعظم اعلیٰ تعلیم کیلئے 72 ارب مختص کرنے پر نظرثانی کریں تاکہ ملک میں پائیدار ترقی کے نئے افق روشن ہو سکیں۔
