وزیراعظم شہباز شریف کی زرعی اسٹیک ہولڈرز سے ملاقات
اسلام آباد: 9 جون 2026 کو وزیراعظم محمد شہباز شریف نے زرعی شعبے کے اعلیٰ سطحی اسٹیک ہولڈرز کے وفد سے اہم ملاقات کی۔ اس اجلاس کا بنیادی مقصد مالی سال 2026-2027 کے وفاقی بجٹ سے قبل زرعی شعبے کی تجاویز اور مشاورت حاصل کرنا تھا۔ وفد میں کسان تنظیموں، ڈیری و لائیو اسٹاک، ویلیو ایڈڈ سیکٹر اور بیج بنانے والی کمپنیوں کے نمائندے شامل تھے، جنہوں نے پاکستان کی معیشت کی بحالی میں زرعی شعبے کی انقلابی صلاحیت کو اجاگر کیا۔
وزیراعظم کے زرعی ترقی کے وژن اور ہدایات
وزیراعظم شہباز شریف نے زرعی شعبے کو معیشت کا محرک قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اسے جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (PARC) کو چینی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز کے تعاون سے زرعی تحقیق میں تیزی لانے کے لیے اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم نے پائیدار زرعی ترقی اور اصلاحات کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے ماہرین اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل ایک کمیٹی بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے فی ایکڑ پیداوار بڑھانے، موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ ہائبرڈ بیجوں کے فروغ، باغبانی، زرعی میکانائزیشن اور ویلیو ایڈیشن پر خصوصی توجہ دینے کی تاکید کی۔ وزیراعظم نے صوبوں کو کپاس کی پیداوار میں اضافے کے لیے جامع منصوبہ پیش کرنے اور ازسرنو تشکیل شدہ کاٹن بورڈ کا فوری نوٹیفکیشن جاری کرنے کی بھی ہدایت کی۔
حکومتی اقدامات اور اسٹیک ہولڈرز کا مثبت ردعمل
ملاقات کے دوران وفد کو زرعی شعبے کی ترقی اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے حکومتی اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ زرخیزی اسکیم کے تحت چھوٹے کسانوں کو 1 ملین روپے تک کے آسان قرضے، جبکہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے رسک کوریج اسکیم اور کراپ لاس انشورنس فراہم کی جا رہی ہے۔ وفد کے شرکاء نے حالیہ سیڈ پالیسی اور زرعی اصلاحات کو "گیم چینجر” قرار دیتے ہوئے ان کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے حکومت کی معاشی و ترقیاتی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار کیا اور زرعی شعبے سے متعلق اپنے مسائل کے حل کے لیے تجاویز پیش کیں۔ وزیراعظم نے ڈیری اور لائیو اسٹاک کے فروغ کی تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا کہ وہ غذائی تحفظ اور قومی معیشت کے استحکام کے لیے تمام فریقین کے ساتھ تعاون جاری رکھے گی۔
