مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 19°C
پیر، 26 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.94 EUR/PKR 310.43 GBP/PKR 370.35 سونا/تولہ (عالمی) 417,861 PKR Bitcoin $80,162 USD/PKR 276.94 EUR/PKR 310.43 GBP/PKR 370.35 سونا/تولہ (عالمی) 417,861 PKR Bitcoin $80,162
زراعت

آرگینک زراعت کا فروغ حکومتی ترجیحات میں شامل ہونا خوش آئند ہے

📅 ✍️ ⏱ 3 منٹ
آرگینک زراعت کا فروغ حکومتی ترجیحات میں شامل ہونا خوش آئند ہے
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ آرگینک زراعت اور مصنوعات پر تحقیق کرنے والے ادارے کے سربراہ نجم مزاری نے وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے ایگریکلچر انوویشن اینڈ گروتھ پلان 2026-27 کے تحت ترجیحی اقدامات پر پیشرفت، نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر اور پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل کو مزید فعال بنا کر بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرنے کے احکامات کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ دیہی آمدن میں اضافے کے لیے آرگینک زراعت کے فروغ کو حکومتی ترجیحات میں شامل کرنا انتہائی خوش آئند ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے لیے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں کو ہر ممکن معاونت فراہم کرنے کا اعلان قابل ستائش ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سرٹیفائیڈ کمپنیوں کے ذریعے کسانوں کو معیاری بیج کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں، تجویز ہے کہ ان کمپنیوں کو آرگینک بیجوں کی تیاری کی جانب بھی راغب کیا جائے۔ نجم مزاری نے کہا کہ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان سمیت ملک کے چاروں صوبوں کی زمین اور آب و ہوا آرگینک زراعت کے لیے انتہائی موزوں ہے، بلوچستان میں کپاس اور کھجور سمیت منتخب زرعی کلسٹرز کو آرگینک پیداوار کے پائلٹ علاقوں کے طور پر ترقی دینے کی ضرورت ہے، جس طرح نائجر نے ایک بھی نیا درخت لگائے بغیر ایک کروڑ 24 لاکھ ایکڑ زمین بحال کرلی، پاکستان بھی ایسے ماڈلز سے استفادہ کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی آرگینک پالیسی اور معیارات وضع کرنے، گروپ سرٹیفکیشن متعارف کرانے اور ڈیجیٹل ٹریس ایبلٹی نظام قائم کرنے کیلئے عملی پیشرفت کی جائے، اس کے ساتھ مقامی زرعی اجناس کی ویلیو چین، برآمدی استعداد اور کسانوں کی آمدن بڑھانے کے لیے تحقیق، سرٹیفکیشن، اسٹوریج، پراسیسنگ اور عالمی منڈیوں تک رسائی کو مربوط بنانے کے اقدامات بھی ناگزیر ہیں۔ انہوں نے نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر کو بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اسے سات اضلاع میں تقسیم کرنے کے فیصلے کا بھی خیر مقدم کیا اور کہا کہ پانچ سینٹرز آف ایکسیلینس، ریفرنس لیبارٹریز، بائیو ریپازیٹری، نئے تحقیقی مراکز، نجی شعبے کے لیے تحقیقی پارک، بین الاقوامی تعاون کا مرکز، لیونگ لیبارٹری اور پبلک ڈسکوری پارک جیسی سہولیات ملک میں زرعی تحقیق اور جدت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور زرعی تحقیق میں بہتری سے کسانوں کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں