پاکستان اور برطانیہ کا موسمیاتی تبدیلی پر تعاون بڑھانے کا عزم
اسلام آباد: پاکستان کے وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی، ڈاکٹر مصدق ملک اور پاکستان میں برطانیہ کی ہائی کمشنر، محترمہ جین میریٹ کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے مابین موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ‘گرین کمپیکٹ’ کے مؤثر نفاذ اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ عزم کا اظہار کیا گیا اور پاکستان کی ماحولیاتی مزاحمت کو مضبوط بنانے کے طریقوں پر غور کیا گیا۔
گرین کمپیکٹ: موسمیاتی تعاون کا فریم ورک
ملاقات کے دوران ‘گرین کمپیکٹ’ کے اہداف اور اس کے تحت مجوزہ شعبہ ہائے تعاون پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ یہ 35 ملین پاؤنڈ مالیت کا ایک دوطرفہ موسمیاتی تعاون کا فریم ورک ہے، جو برطانیہ اور پاکستان کے درمیان قائم کیا گیا ہے تاکہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات سے نمٹنے اور اپنی موسمیاتی مزاحمت کو مزید مضبوط بنانے میں مدد فراہم کی جا سکے۔ برطانوی ہائی کمشنر نے گرین کمپیکٹ کے ایکشن پلان پر ایک جامع بریفنگ دی، جس میں اس کے کلیدی مقاصد اور ترجیحی شعبے شامل تھے۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے زور دیا کہ گرین کمپیکٹ کے تحت ایسے عملی اقدامات اور پائیدار منصوبے تشکیل دیے جانے چاہئیں جو نہ صرف فوری بلکہ دیرپا نتائج پیدا کریں اور عوام کی فلاح و بہبود پر براہ راست مثبت اثرات مرتب کریں۔
ماحولیاتی تعلیم اور ٹیکنالوجی میں پیش رفت
وفاقی وزیر نے برطانوی ہائی کمشنر کو اسلام آباد میں ایک ‘گرین یونیورسٹی’ کے قیام کے حوالے سے ہونے والی تازہ ترین پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس ضمن میں اٹلی سمیت متعدد بین الاقوامی شراکت داروں اور آرکٹک سرکل سے وابستہ اداروں کے ساتھ مسلسل مشاورت جاری ہے تاکہ اس منصوبے کو عالمی معیارات کے مطابق پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔ مزید برآں، ڈاکٹر مصدق ملک نے نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (NUST) میں وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کے تعاون سے قائم کردہ ‘گرین ٹیک ہب’ کے بارے میں بھی بریفنگ دی۔ اس ہب کا بنیادی مقصد نوجوان کاروباری افراد کو گرین ٹیکنالوجیز اور پائیدار کاروباری منصوبوں پر کام کرنے کے لیے ضروری معاونت اور پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔
نوجوانوں کی شمولیت اور پائیدار حل
ڈاکٹر مصدق ملک نے اس امر پر زور دیا کہ نوجوانوں کو صرف گرین انٹرپرینیورشپ تک محدود معاونت فراہم کرنا کافی نہیں بلکہ انہیں تحقیق، جدت اور ایسے عملی حل پیدا کرنے کے بھرپور مواقع بھی فراہم کیے جانے چاہئیں جو موجودہ اور مستقبل کے ماحولیاتی اور موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے میں مؤثر ثابت ہو سکیں۔ محترمہ جین میریٹ نے وفاقی وزیر کو برطانیہ کے کامیاب ‘یوتھ انٹرپرینیورشپ پروگرامز’ اور برطانوی ہائی کمیشن کے اشتراک سے پاکستان میں جاری مختلف منصوبوں کے بارے میں آگاہ کیا، جن کا بنیادی محور موسمیاتی مزاحمت اور ماحول دوست حل کو فروغ دینا ہے۔ ملاقات میں موسمیاتی آفات سے نمٹنے کے لیے ابتدائی وارننگ سسٹمز کو مزید مؤثر بنانے اور تیاریوں کو بہتر بنانے کے امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
سرکاری معلومات کے لیے وزارت موسمیاتی تبدیلی سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
