پاک چین دوستی منفرد مثال، سی پیک معاشی ترقی کا اہم ستون
سی پیک پاکستان کی معاشی ترقی کا اہم ستون
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات، پروفیسر احسن اقبال نے زور دیا ہے کہ پاکستان اور چین کے مابین قائم دیرینہ دوستی دنیا میں اپنی مثال آپ ہے، جبکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) ملک کی معاشی ترقی اور علاقائی رابطوں کے لیے ایک کلیدی ستون بن چکی ہے۔ چینی سفارتخانے کے زیر اہتمام منعقدہ علاقائی صورتحال پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے، انہوں نے دونوں ممالک کے پختہ تعلقات اور سی پیک کے transformative کردار پر روشنی ڈالی۔
پاک چین تعلقات کی غیر متزلزل نوعیت
احسن اقبال نے کہا کہ گزشتہ 75 سال سے پاکستان اور چین کے تعلقات مسلسل مضبوطی کی طرف گامزن ہیں اور اس دوستی کو کبھی کسی کمزوری یا زوال کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ انہوں نے اس لازوال رشتے کو "ہمالیہ سے بلند، سمندروں سے گہری اور ہر آزمائش پر پورا اترنے والی” دوستی قرار دیا۔ وفاقی وزیر نے یاد دلایا کہ 2013 میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے چین کے ساتھ سی پیک معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس نے ایک خواب کو عملی روڈ میپ میں بدل دیا۔
سی پیک: ترقی کا محور اور عالمی پہچان
انہوں نے بتایا کہ سی پیک کے ابتدائی مرحلے میں تقریباً 46 ارب ڈالر مالیت کے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے، جن میں سے 25 ارب ڈالر کی چینی سرمایہ کاری اب حقیقت کا روپ دھار چکی ہے۔ پاکستان اور چین نے "یک جان دو قالب” بن کر اس تاریخی منصوبے کو کامیاب بنایا، جو اب محض ایک ترقیاتی منصوبہ نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی برانڈ بن چکا ہے، جس میں دنیا بھر کی کمپنیاں سرمایہ کاری میں دلچسپی لے رہی ہیں۔ احسن اقبال نے علامہ اقبال کی چین کے عروج کی پیشنگوئی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج یہ حقیقت بن چکی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ چین کے تعاون سے پاکستان کے پہلے خلائی مشن پر کام جاری ہے، جو سائنسی اور تکنیکی تعاون کی ایک نئی مثال ہے۔
مستقبل کے عزائم اور تعاون کے نئے افق
وفاقی وزیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سی پیک کو نئے ولولے کے ساتھ دوبارہ فعال کیا گیا ہے اور اس کا دوسرا مرحلہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ پاکستان سی پیک کے اس نئے دور سے زیادہ سے زیادہ استفادہ حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ دونوں ممالک سرمایہ کاری کے فروغ، اقتصادی تعاون کے استحکام اور علاقائی ترقی کے مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے قریبی تعاون جاری رکھیں گے، جو مستقبل میں پاک چین تعلقات کو مزید تقویت بخشے گا۔
سرکاری معلومات کے لیے سی پیک سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
