تحریر: عابد محمود مغل
آج کی دنیا اس موڑ پر کھڑی ہے جہاں “علم” سے زیادہ “ٹیکنالوجی کا درست استعمال” کامیابی کی ضمانت بن چکا ہے۔ عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کی مارکیٹ 2026 تک 300 بلین ڈالر سے تجاوز کرنے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کے تعلیمی ادارے ہمارے بچوں کو اس مستقبل کے لیے تیار کر رہے ہیں؟
عالمی منظرنامہ اور پاکستانی حقیقت
ترقی یافتہ ممالک میں اب “کوڈنگ” اور “پرامپٹ انجینئرنگ” گریڈ 1 سے سکھائی جا رہی ہے۔ دوسری طرف، پاکستان میں ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے اعداد و شمار کے مطابق ہر سال تقریباً 5 لاکھ گریجویٹس لیبر مارکیٹ میں شامل ہوتے ہیں، مگر ان میں سے صرف 35 فیصد کے پاس وہ ڈیجیٹل مہارتیں ہوتی ہیں جن کی عالمی مارکیٹ میں طلب ہے۔
اگر ہم صرف فری لانسنگ مارکیٹ کو دیکھیں تو پاکستان دنیا کے ٹاپ 5 ممالک میں شامل ہے، لیکن ہماری زیادہ تر سروسز اب بھی روایتی ڈیٹا انٹری یا گرافک ڈیزائننگ تک محدود ہیں۔ جبکہ عالمی مارکیٹ اب اے آئی ویڈیو جنریشن، اے جی آئی (AGI) سلوشنز اور آٹومیشن کی طرف منتقل ہو چکی ہے۔
گریڈ 1 سے 6: سیکھنے کا سنہری دور
نفسیاتی ماہرین کے مطابق 7 سے 12 سال کی عمر بچوں کے سیکھنے کے لیے سب سے موزوں ہوتی ہے۔ راولپنڈی کے معروف تعلیمی اداروں، جیسے ‘صدیق پبلک سکول’، کے طلبہ اپنی تعلیمی قابلیت (90 فیصد پلس نمبرز) میں تو بے مثال ہیں، لیکن اصل چیلنج اس قابلیت کو “فیوچر ٹیک” کے ساتھ جوڑنا ہے۔
تصور کریں کہ اگر ایک 7 سالہ بچہ کتابی رٹے کے بجائے اے آئی کے ذریعے اپنی کہانی خود لکھ رہا ہے، اور ایک 12 سالہ بچہ ‘کرسر’ (Cursor) یا ‘ریپلٹ’ (Replit) جیسے ٹولز استعمال کر کے اپنی ایپلیکیشن بنا رہا ہے، تو وہ 20 سال کی عمر تک پہنچنے پر عالمی معیشت کا لیڈر بن چکا ہوگا۔
ڈیجیٹل ایکو سسٹم: ایک گھنٹہ روزانہ کی طاقت
پاکستان کی معاشی بقا اب صرف زراعت یا صنعت میں نہیں، بلکہ “ڈیجیٹل ایکسپورٹ” میں ہے۔ اگر ہم اپنے بچوں کو روزانہ صرف ایک گھنٹہ درست سمت میں اے آئی ٹولز (جیسے ChatGPT, Leonardo.ai, ElevenLabs) کا استعمال سکھائیں، تو وہ نہ صرف اپنی تعلیم میں بہتر ہوں گے بلکہ ایک “مائیکرو ایجنسی” کے طور پر گھر بیٹھے ڈالرز کما کر ملک کی معیشت میں اپنا حصہ ڈال سکیں گے۔
حاصلِ کلام
ہمیں اپنے تعلیمی ڈھانچے کو روایتی “ڈگری” سے نکال کر “ڈیجیٹل سکل” کی طرف لانا ہوگا۔ وہ وقت دور نہیں جب نوکری کے لیے آپ کی سی وی (CV) سے زیادہ آپ کا “ڈیجیٹل پورٹ فولیو” اہمیت رکھے گا۔ ہمارے بچوں میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں، کمی صرف اس ٹیلنٹ کو جدید ترین عالمی ٹولز سے لیس کرنے کی ہے۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے بچوں کو صرف “پڑھنا” نہیں، بلکہ “بنانا” (Create) سکھائیں۔
dostnews.com کے قارئین کے لیے خصوصی تحریر۔



