پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان اربوں ڈالر تجارتی صلاحیت موجود
لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر ایم ڈی اقبال حسین خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان اربوں ڈالر تجارتی صلاحیت موجود ہے جسے باہمی تعاون اور رابطوں کو بہتر بنا کر حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر ہے، تاہم مہنگائی دہرے ہندسے میں، ذخائر مستحکم: اکتوبر 2026 میں پاکستانی معیشت کہاں کھڑی ہے؟ کے موجودہ معاشی منظرنامے میں برآمدات بڑھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
اہم نکات
- پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان موجودہ دوطرفہ تجارت ایک ارب ڈالر ہے جسے کئی گنا بڑھایا جا سکتا ہے۔
- زراعت، ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل، انجینئرنگ، فوڈ پروسیسنگ، کیمیکلز، معدنیات اور سیاحت تعاون کے اہم شعبے ہیں۔
- ہائی کمشنر نے کاروباری ویزوں میں آسانی، ای ویزا اور براہِ راست سمندری 및 فضائی رابطوں میں اضافے پر زور دیا۔
- لاہور چیمبر میں بنگلہ دیش کے لیے ایک مخصوص تجارتی سیل قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
- پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان براہِ راست سمندری رابطے سے ترسیل کا وقت 2 ہفتوں سے کم ہو کر 5 سے 6 دن ہو سکتا ہے۔
تجارتی صلاحیت اور عملی حکمت عملی

بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر ایم ڈی اقبال حسین خان نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (LCCI) میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان پاکستان ایران سرحدی تجارت معطل، ایل پی جی کی رسد متاثر جیسے علاقائی چیلنجز کے باوجود تجارت بڑھانے کے امکانات روشن ہیں۔ انہوں نے زراعت، ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل، انجینئرنگ اور دیگر شعبوں میں اشتراکِ عمل کی ضرورت پر زور دیا۔
اس موقع پر لاہور چیمبر کے صدر علی حسام اصغر نے کہا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کو تجارت کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ انہوں نے تجویز دی کہ لاہور چیمبر میں ایک مخصوص سیل قائم کیا جائے جو بنگلہ دیش کے ساتھ کاروباری روابط کی نگرانی کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پانچ ترجیحی برآمدی شعبوں کی نشاندہی کر کے مشترکہ منصوبے شروع کیے جا سکتے ہیں۔
شعبہ جات اور مستقبل کا لائحہ عمل
ہائی کمشنر نے بتایا کہ بنگلہ دیش پاکستان سے مکئی، باسمتی چاول، ٹیکسٹائل کا خام مال، کیمیکلز اور معدنیات درآمد کرنے کا خواہشمند ہے۔ پاکستان کی جانب سے پاکستان ایران سرحد بندش، ایل پی جی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مارکیٹ ڈائیورسٹی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین براہِ راست سمندری تجارت کے قیام سے وقت اور لاگت میں نمایاں کمی آئے گی۔
لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر سردار عثمان غنی نے مطالبہ کیا کہ دوطرفہ تجارت کو کم از کم دو ارب ڈالر تک پہنچایا جائے۔ ایگزیکٹو کمیٹی کی رکن نائلہ ندیم، شہزاد علی شاہ اور عامر عطا باری نے بھی فارماسیوٹیکل، میڈیکل ٹورازم اور صنعتی آلات کی برآمدات میں پاکستان کی صلاحیت کو اجاگر کیا۔
