مہنگائی دہرے ہندسے میں، ذخائر مستحکم: اکتوبر 2026 میں پاکستانی معیشت کہاں کھڑی ہے؟
پاکستان کی معیشت اکتوبر 2026 میں ایک ملی جلی تصویر پیش کر رہی ہے: ایک طرف زرِمبادلہ کے ذخائر اور بیرونِ ملک سے آنے والی ترسیلاتِ زر مضبوط ہیں اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ اگلی قسط پر عملے کی سطح کا معاہدہ طے پا چکا ہے، تو دوسری طرف مہنگائی دوبارہ دہرے ہندسے میں ہے اور درآمدات میں تیز اضافے سے تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے۔ یہ صورتِ حال اس لیے اہم ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں شرحِ سود، ایندھن کی قیمتوں اور آئی ایم ایف بورڈ کے فیصلے براہِ راست کاروبار اور گھریلو بجٹ پر اثر ڈالیں گے۔
مہنگائی: دہرے ہندسے میں برقرار
ادارہ شماریات پاکستان کے مطابق ستمبر 2026 میں صارف اشاریۂ قیمت کی بنیاد پر سالانہ مہنگائی 10.26 فیصد رہی، جو اگست کی 11.1 فیصد شرح سے کچھ کم ہے۔ ماہانہ بنیاد پر قیمتوں میں 1.27 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) میں اوسط مہنگائی 10.20 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق ستمبر میں نقل و حمل کے اخراجات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 27.43 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ خوراک کی مہنگائی 8.20 فیصد رہی۔ وزارتِ خزانہ نے اپنی ماہانہ اقتصادی رپورٹ میں کہا تھا کہ مہنگائی کا آئندہ رخ بڑی حد تک عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر منحصر ہوگا۔
شرحِ سود اور معاشی شرحِ نمو
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 14 ستمبر 2026 کو شرحِ سود 11.5 فیصد پر برقرار رکھی۔ مرکزی بینک کے بیان کے مطابق یہ فیصلہ زری پالیسی کمیٹی کے دس میں سے سات ارکان کی اکثریت سے ہوا۔ کمیٹی نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کے طویل تنازع میں شدت سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں مزید بڑھی ہیں اور معاشی منظرنامے سے متعلق غیر یقینی میں اضافہ ہوا ہے۔ اسٹیٹ بینک کا درمیانی مدت کا ہدف مہنگائی کو 5 سے 7 فیصد کے دائرے میں لانا ہے۔
شرحِ نمو کے حوالے سے اسٹیٹ بینک کے مطابق ادارہ شماریات نے گزشتہ مالی سال 2025-26 میں حقیقی شرحِ نمو کا عبوری تخمینہ 3.7 فیصد لگایا، جبکہ آئی ایم ایف نے اسی سال کی شرحِ نمو کا اندازہ 3.6 فیصد بتایا ہے۔ رواں مالی سال 2026-27 کے لیے اسٹیٹ بینک کو توقع ہے کہ شرحِ نمو 3.5 سے 4.5 فیصد کے درمیان رہے گی۔ اسٹیٹ بینک نے یہ بھی بتایا کہ عالمی درجہ بندی ادارے موڈیز نے پاکستان کی خودمختار درجہ بندی بہتر کر کے بی تھری کر دی ہے اور منظرنامہ مستحکم قرار دیا ہے۔
آئی ایم ایف پروگرام اور زرِمبادلہ کے ذخائر
آئی ایم ایف کے 7 اکتوبر کے اعلامیے کے مطابق فنڈ کے عملے اور پاکستانی حکام کے درمیان توسیعی فنڈ سہولت کے چوتھے جائزے اور لچک و پائیداری سہولت کے تیسرے جائزے پر عملے کی سطح کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ منظوری کی صورت میں پاکستان کو توسیعی سہولت کے تحت تقریباً ایک ارب ڈالر اور لچک و پائیداری سہولت کے تحت تقریباً 21 کروڑ ڈالر ملیں گے، جس کے بعد دونوں پروگراموں کے تحت مجموعی ادائیگیاں تقریباً 5.7 ارب ڈالر ہو جائیں گی۔ یہ معاہدہ آئی ایم ایف کے انتظامی بورڈ کی منظوری سے مشروط ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق ستمبر کے اختتام تک پاکستان کے مجموعی ذخائر تقریباً ساڑھے 21 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ اسٹیٹ بینک کے ہفتہ وار اعداد و شمار کے مطابق 9 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں مرکزی بینک کے ذخائر 21.47 ارب ڈالر اور کمرشل بینکوں سمیت ملک کے مجموعی مائع ذخائر 26.86 ارب ڈالر تھے۔ اسٹیٹ بینک کی ویب سائٹ پر 23 اکتوبر کے لیے جاری حوالہ جاتی شرح کے مطابق ایک امریکی ڈالر تقریباً 276 روپے 82 پیسے کا رہا۔
برآمدات، ترسیلاتِ زر اور جاری کھاتا
اسٹیٹ بینک کے مطابق ستمبر 2026 میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں نے 3.59 ارب ڈالر بھیجے، جو گزشتہ سال کے اسی مہینے سے 12.7 فیصد زیادہ مگر اگست سے 1.9 فیصد کم ہیں۔ پہلی سہ ماہی میں ترسیلاتِ زر 10.87 ارب ڈالر رہیں، جو 14 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔ سعودی عرب 89 کروڑ 91 لاکھ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا ذریعہ رہا۔
ادارہ شماریات کے مطابق ستمبر میں برآمدات 17.61 فیصد اضافے سے 2.94 ارب ڈالر رہیں۔ تاہم پہلی سہ ماہی میں برآمدات 10.84 فیصد بڑھ کر 8.42 ارب ڈالر جبکہ درآمدات 13.21 فیصد بڑھ کر 19.22 ارب ڈالر ہو گئیں، جس سے تجارتی خسارہ 15.13 فیصد اضافے کے ساتھ 10.79 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق ستمبر میں جاری کھاتے کا خسارہ 35 کروڑ 60 لاکھ ڈالر رہا، اور پہلی سہ ماہی کا مجموعی خسارہ 87 کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں 75 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تھا۔
توانائی کے اخراجات اور اصلاحات
آئی ایم ایف نے اپنے اعلامیے میں سفارش کی ہے کہ ایندھن پر دی جانے والی امدادی اسکیم کو اس کی بھاری لاگت اور وسیع ہدف بندی کے باعث جلد ختم کیا جائے، اور اگر تیل کی قیمتیں غیر متوقع طور پر بڑھیں تو کوئی بھی آئندہ امداد محدود، مقررہ مدت کے لیے اور صرف مستحق طبقے تک رکھی جائے۔ فنڈ کے مطابق بجلی کے نرخوں میں بروقت ردوبدل اور لاگت کم کرنے والی اصلاحات گردشی قرضے کو دوبارہ بڑھنے سے روکنے کے لیے ضروری ہیں۔ آئی ایم ایف کے مطابق مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں بنیادی سرپلس کا ہدف مجموعی قومی پیداوار کا 2 فیصد رکھا گیا ہے۔
اہم نکات
- ستمبر میں مہنگائی 10.26 فیصد، اسٹیٹ بینک کے 5 سے 7 فیصد ہدف سے کافی اوپر (ادارہ شماریات)
- شرحِ سود 11.5 فیصد پر برقرار (اسٹیٹ بینک، 14 ستمبر)
- آئی ایم ایف سے تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی قسط پر عملے کی سطح کا معاہدہ، بورڈ کی منظوری باقی
- اسٹیٹ بینک کے ذخائر 21.47 ارب ڈالر (9 اکتوبر)
- پہلی سہ ماہی میں ترسیلاتِ زر 10.87 ارب ڈالر، تجارتی خسارہ 10.79 ارب ڈالر
آگے کا منظرنامہ
تجزیہ: دستیاب سرکاری اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بیرونی شعبے کا سہارا اس وقت بنیادی طور پر ترسیلاتِ زر، آئی ایم ایف پروگرام اور بہتر ہوتے ذخائر ہیں، جبکہ سب سے بڑا دباؤ مہنگائی اور درآمدی بل سے آ رہا ہے۔ آئی ایم ایف نے جن خطرات کی نشاندہی کی ہے ان میں جغرافیائی و سیاسی کشیدگی، توانائی کی غیر مستحکم قیمتیں، سخت عالمی مالیاتی حالات اور تجارتی رکاوٹیں شامل ہیں۔ مواقع کے لحاظ سے درجہ بندی میں بہتری، برآمدات میں حالیہ اضافہ اور ترسیلاتِ زر کا تسلسل معیشت کے لیے مثبت عوامل ہیں۔
آنے والے ہفتوں میں تین فیصلے خاص طور پر اہم ہوں گے: اسٹیٹ بینک کی زری پالیسی کمیٹی کا اگلا اجلاس، آئی ایم ایف کے انتظامی بورڈ کی جانب سے قسط کی منظوری، اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا رخ۔ ان تینوں کا نتیجہ ہی طے کرے گا کہ مہنگائی میں کمی کا عمل تیز ہوتا ہے یا معیشت کو مزید احتیاط کے ساتھ چلنا پڑتا ہے۔
ذرائع
- اسٹیٹ بینک آف پاکستان: زری پالیسی بیان، 14 ستمبر 2026
- اسٹیٹ بینک آف پاکستان: مہنگائی جائزہ رپورٹ، ستمبر 2026
- اسٹیٹ بینک آف پاکستان: ترسیلاتِ زر، ہفتہ وار ذخائر اور جاری کھاتے کے اعداد و شمار (اکتوبر 2026)
- ادارہ شماریات پاکستان: صارف اشاریۂ قیمت پریس ریلیز، ستمبر 2026
- ادارہ شماریات پاکستان: بیرونی تجارت کے ابتدائی اعداد و شمار، ستمبر 2026
- بین الاقوامی مالیاتی فنڈ: پریس ریلیز نمبر 26/326، 7 اکتوبر 2026
- وزارتِ خزانہ: ماہانہ اقتصادی رپورٹ، ستمبر 2026 (بزنس ریکارڈر کے حوالے سے)
- بزنس ریکارڈر
تصویر: A.Savin، Wikimedia Commons (Free Art License)
