پاکستان ایران سرحدی تجارت معطل، ایل پی جی کی رسد متاثر
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ 23 اکتوبر 2026 کو پاکستان اور ایران کے درمیان تفتان اور گبد رمدان کے سرحدی راستوں پر تجارتی نقل و حرکت معطل ہونے سے پاکستان ایران سرحدی تجارت معطل ہو گئی ہے، جس کے باعث دونوں ممالک کے کاروباری حلقوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ 18 اور 19 اکتوبر 2026 کی رپورٹس کے مطابق بڑی تعداد میں مال بردار گاڑیاں دونوں جانب پھنس گئی ہیں، جس سے ایل پی جی، چاول اور پھلوں جیسی اشیاء کی ترسیل بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
اہم نکات
- تفتان اور گبد رمدان بارڈرز کی بندش سے ایل پی جی اور زرعی مصنوعات کی سپلائی لائن متاثر ہوئی ہے۔
- کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے تقریباً دو ہزار ٹرکوں کے بارڈر پر پھنسے ہونے کی اطلاع دی ہے۔
- بلوچستان حکام نے سکیورٹی اور اسمگلنگ کی روک تھام کو، جبکہ ایرانی حکام نے تکنیکی مسائل کو بندش کا سبب قرار دیا ہے۔
- مالی سال 2023-24 میں پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم تقریباً 2.8 ارب ڈالر رہا تھا۔
- دونوں ممالک نے اگست 2026 میں سالانہ تجارت کو 10 ارب ڈالر تک لے جانے کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔
پاکستان ایران سرحدی تجارت معطل: وجوہات اور اثرات
پاکستان کے لیے ایران سے درآمد ہونے والی ایل پی جی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے، جبکہ ایران کو چاول اور دیگر زرعی مصنوعات کی برآمدات پاکستان کے تجارتی توازن کے لیے اہم ہیں۔ یہ صورتحال ایسے وقت پیدا ہوئی ہے جب عالمی معدنیات کی دوڑ میں پاکستان کے لیے سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنے کے ساتھ ساتھ علاقائی تجارت کو فروغ دیا جا رہا تھا۔ اگر یہ بندش طویل رہی تو مقامی منڈیوں میں اشیائے خوردونوش اور ایندھن کی قیمتوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تجارت کے فروغ میں رکاوٹیں اور مستقبل
پاکستان کی وزارت تجارت کے مطابق اگست 2026 میں مشترکہ تجارتی کمیٹی کے دسویں اجلاس میں بارٹر تجارت اور کسٹمز رابطہ کاری کو بہتر بنانے پر اتفاق ہوا تھا۔ تاہم، حالیہ سرحدی کشیدگی نے ان اہداف کے حصول کو ایک بڑا چیلنج بنا دیا ہے۔ جس طرح آر ڈی اے کے مالیاتی و انتظامی امور کو ڈیجیٹل بنانے کی ہدایت دی گئی ہے، اسی طرح سرحدی تجارت کو ڈیجیٹل اور جدید بنانے کی ضرورت ہے تاکہ بار بار پیدا ہونے والے ایسے مسائل کا مستقل حل نکالا جا سکے۔
سرحدی انتظام اور دوطرفہ رابطہ کاری
پاکستان ایران سرحدی تجارت معطل ہونے سے تاجروں کا اعتماد بھی متزلزل ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرحدی تجارت کی بحالی کے لیے حفاظتی تقاضوں اور کسٹمز سہولت کاری کے درمیان توازن پیدا کرنا ناگزیر ہے۔ یہ صورتحال اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کا خیبر پختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے 160 ارب روپے کا اعلان ملک بھر میں معاشی سرگرمیوں کو متحرک کرنے کے عزم کا حصہ ہے، جس کا تسلسل سرحدی راستوں کی روانی سے مشروط ہے۔
اہم سوالات و جوابات
پاکستان ایران سرحدی تجارت معطل ہونے کی اصل وجوہات کیا ہیں؟
بلوچستان کے حکام نے اسے سکیورٹی اور اسمگلنگ کی روک تھام کا اقدام قرار دیا ہے جبکہ ایرانی وزارت خارجہ نے اسے تکنیکی وجوہات اور احتیاطی اقدامات کا نتیجہ بتایا ہے۔
اس بندش کا دونوں ممالک کی معیشت پر کیا اثر پڑے گا؟
اس سے ایل پی جی کی درآمدات، زرعی برآمدات اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات متاثر ہو رہے ہیں، جس سے مقامی منڈیوں پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
