مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 20°C
اتوار، 25 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.82 EUR/PKR 310.12 GBP/PKR 370.24 سونا/تولہ (عالمی) 414,909 PKR Bitcoin $80,262 USD/PKR 276.82 EUR/PKR 310.12 GBP/PKR 370.24 سونا/تولہ (عالمی) 414,909 PKR Bitcoin $80,262
بزنس

پاکستان ایران سرحد بندش، ایل پی جی قیمتوں میں نمایاں اضافہ

📅 ✍️ ⏱ 4 منٹ
پاکستان ایران سرحد پر سامان سے لدے ہوئے ٹرکوں کی قطار اور سرحدی تجارت کا منظر
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ پاکستان ایران سرحد بندش کے نتیجے میں ملک بھر میں ایل پی جی کی قلت اور قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کی تازہ ترین صورتحال 23 اکتوبر 2026 کو سامنے آئی ہے۔ پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی راستوں میں خلل کے اثرات اب بلوچستان اور دیگر علاقوں میں رسد اور قیمتوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔

اہم نکات

  • تفتان اور گبد رمدان تجارتی راستوں کی بندش سے ایران سے ایل پی جی کی درآمد شدید متاثر ہوئی۔
  • پاکستان ایران سے روزانہ تقریباً سات ہزار میٹرک ٹن ایل پی جی حاصل کرتا ہے۔
  • بلوچستان میں 12 کلوگرام کے ایل پی جی سلنڈر کی قیمت 7 ہزار روپے تک پہنچ گئی۔
  • گبد رمدان راستہ جلد خراب ہونے والی زرعی مصنوعات کے لیے جزوی طور پر کھول دیا گیا ہے۔
  • سرحدی بندش سے ٹرانسپورٹرز، برآمد کنندگان اور مقامی آبادیوں کا روزگار متاثر ہو رہا ہے۔

پاکستان ایران سرحدی تجارت اور ایل پی جی کی صورتحال

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق 17 اکتوبر سے تفتان اور گبد رمدان تجارتی راستوں کی بندش نے مائع پیٹرولیم گیس کی درآمد کو روک دیا ہے، جس کے بعد سے تاجروں نے قلت اور قیمتوں میں ہوشربا اضافے کی اطلاع دی ہے۔ کاروباری ذرائع کے مطابق، پاکستان اپنی ایل پی جی کی ضرورت کا بڑا حصہ انہی راستوں سے پورا کرتا ہے، جس میں گبد رمدان کا کلیدی کردار ہے۔ اس بحران نے ملک میں عالمی معدنیات کی دوڑ میں پاکستان کے لیے سرمایہ کاری کے نئے مواقع جیسے وسیع تر معاشی تناظر میں تجارتی راستوں کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔

قیمتوں میں اضافہ اور مقامی منڈیوں پر اثرات

بلوچستان میں 12 کلوگرام کے ایل پی جی سلنڈر کی قیمت بعض مقامات پر 4,500 روپے سے بڑھ کر 7,000 روپے تک پہنچنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ اسی طرح لاہور اور اسکردو میں بھی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ قیمتیں متعلقہ تاجروں اور صارفین کے مطابق ہیں، تاہم ٹرانسپورٹ لاگت اور مقامی منڈی کے حالات کے مطابق ان میں فرق ہوسکتا ہے۔ حالیہ دنوں میں انتظامیہ نے بھی مختلف مقامات پر اسلام آباد کے علاقے مالپور میں پانچ کمرشل پلازے واگزار کرا لیے گئے جیسے اقدامات کے ذریعے کاروباری نظم و نسق کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے، لیکن سرحد پر جاری تعطل سے صورتحال تاحال چیلنجنگ بنی ہوئی ہے۔

تجارتی راستوں کی بحالی کی کوششیں

تازہ پیش رفت کے طور پر بدھ کے روز گبد رمدان راستہ پاکستان سے جلد خراب ہونے والی زرعی مصنوعات کی برآمد کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا ہے، تاہم ایل پی جی کی درآمد تاحال بحال نہیں ہو سکی ہے۔ 18 اکتوبر کو پاکستانی اخبار ڈان نے رپورٹ کیا تھا کہ وزارت تجارت نے اپنے پہلے جاری کردہ حکم نامے کو واپس لیتے ہوئے تجارت معطل کی تھی، جس کی وجہ حکام نے سکیورٹی اور اسمگلنگ کے خدشات بتائے تھے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ آر ڈی اے کے مالیاتی و انتظامی امور کو ڈیجیٹل بنانے کی ہدایت کی طرح تجارتی امور میں شفافیت لائے تاکہ مستقبل میں ایسے بحرانوں سے بچا جا سکے۔

اہم سوالات و جوابات

ایران سرحدی تجارت بند ہونے کی وجہ کیا ہے؟

پاکستانی حکام نے سکیورٹی اور اسمگلنگ سے متعلق خدشات کا حوالہ دیا ہے، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے تکنیکی مسائل کی بات سامنے آئی ہے۔

سرحدی بندش سے ایل پی جی کی قیمتوں پر کیا اثر پڑا؟

بلوچستان میں 12 کلوگرام کے ایل پی جی سلنڈر کی قیمت 4,500 روپے سے بڑھ کر 7,000 روپے تک پہنچ گئی ہے۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں