مکہ ڈیفنس ایگریمنٹ علاقائی امن و استحکام کیلئے سنگ میل ہے، وزیراعظم
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کے روز کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا مکہ ڈیفنس ایگریمنٹ علاقائی امن، اتحاد اور استحکام کے لیے ایک تاریخی سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ وزیراعظم نے یہ بات مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ کے تحت قائم اتحاد کے جنرل سیکریٹریٹ کے پہلے سیکریٹری جنرل لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود سے ملاقات کے دوران کہی، جنہوں نے یہاں ان سے ملاقات کی۔
اہم نکات
- مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ایک تاریخی دفاعی معاہدہ ہے۔
- لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود کو اتحاد کے جنرل سیکریٹریٹ کا پہلا سیکریٹری جنرل تعینات کیا گیا ہے۔
- وزیراعظم نے سعودی عرب کی خودمختاری، دفاع اور سلامتی کے لیے پاکستان کے مکمل تعاون کا اعادہ کیا ہے۔
مکہ ڈیفنس ایگریمنٹ: دفاعی تعاون کا نیا باب
وزیراعظم شہباز شریف نے لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود کو ان کے عہدہ سنبھالنے پر نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے زور دیا کہ اس معاہدے کے تحت پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، دفاع اور علاقائی سلامتی کے لیے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہے اور سعودی عرب کے حقِ دفاع کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیکیورٹی کے تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ مکہ ڈیفنس ایگریمنٹ کے سیکریٹری جنرل نے وزیراعظم کو اس معاہدے کے فریم ورک کے تحت دفاعی اور تزویراتی تعاون کو فروغ دینے کے لیے حکمت عملی پر بریفنگ دی۔ یہ پیش رفت خطے میں سیکیورٹی و دفاعی روابط کو مزید مستحکم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
اہم سوالات و جوابات
مکہ ڈیفنس ایگریمنٹ کن ممالک کے درمیان طے پایا؟
مکہ ڈیفنس ایگریمنٹ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پایا ہے۔
اتحاد کے پہلے سیکریٹری جنرل کون ہیں؟
لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود مکہ ڈیفنس ایگریمنٹ کے تحت اتحاد کے جنرل سیکریٹریٹ کے پہلے سیکریٹری جنرل ہیں۔
