پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے ایکسپورٹ لیڈ گروتھ ناگزیر ہے
لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (LCCI) کے صدر علی حسام اصغر نے کہا ہے کہ پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی کے لیے ایکسپورٹ لیڈ گروتھ (Export-led growth) ناگزیر ہے اور صنعت کاروں کو سازگار کاروباری ماحول فراہم کرکے ہی برآمدات میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار فیروز پور روڈ کے صنعتکاروں کے ایک وفد سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر لاہور ٹریفک پولیس کی جانب سے مختلف اقدامات کا تذکرہ بھی کیا گیا، جبکہ ریڈیو پاکستان حملہ کیس جیسے معاملات کی طرح کاروباری شعبے میں قانون کے نفاذ کے طریقوں پر بھی بحث کی گئی۔
اہم نکات
- پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی کا انحصار ایکسپورٹ لیڈ گروتھ پر ہے جس کے لیے سازگار ماحول ضروری ہے۔
- لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے مسائل کے فوری حل کے لیے ایک ایڈہاک کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔
- ایکسپورٹرز کی شکایات کے ازالے کے لیے چیمبر کے کمپلینٹ سیل کو وزیراعظم کے ڈیش بورڈ سے منسلک کر دیا گیا ہے۔
- صنعتکاروں نے واسا (WASA) اور لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کی جانب سے ایف آئی آرز کے اندراج پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
- چھوٹے صنعتکاروں کو ماحول دوست ٹیکنالوجی اپنانے کے لیے بلاسود قرضے فراہم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
کاروباری مسائل کا حل اور حکومتی تعاون
لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر سردار عثمان غنی، نائب صدر چودھری خادم حسین اور وفد کے سربراہ ادیب اقبال شیخ نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔ اجلاس میں سابق نائب صدور فیصل اقبال شیخ اور میاں زاہد جاوید، ایگزیکٹو کمیٹی ممبران علی رضا، محمد عمر عبداللہ، چوہدری اورنگزیب، نصیر، ساجد منہاس، ملک، قیصر حسین، ظہیر بھٹہ، کامل محمود، میاں خورشید انور، بابر جہانگیر، فیصل امین اور حافظ عمران بھی موجود تھے۔
صدر علی حسام اصغر نے کہا کہ لاہور چیمبر فیروز پور روڈ کے صنعت کاروں کو درپیش مسائل کے حل، کاروباری سہولتوں میں اضافے اور غیر ضروری رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے متعلقہ سرکاری اداروں سے رابطے کرے گا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ادیب اقبال شیخ کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی ترجیحی بنیادوں پر کام کرے گی۔
ڈیجیٹلائزیشن اور کاروباری سہولتیں
انہوں نے کہا کہ لاہور چیمبر کوشش کر رہا ہے کہ پنجاب حکومت کی ایک ایسی ایپلی کیشن قائم کی جائے جہاں نئی فیکٹری لگانے، صنعتی یونٹ قائم کرنے اور مختلف لائسنسوں کی منظوری ایک آسان عمل کے ذریعے مل سکے۔ اس سے قبل معروف مصنف عمران ملک کی ڈی جی ریجنل سروسز علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے ملاقات کے دوران بھی تعلیمی و انتظامی بہتری کے لیے ایسے ہی ڈیجیٹل اقدامات پر زور دیا گیا تھا۔
صدر لاہور چیمبر نے مزید کہا کہ کاروباری برادری ضابطوں اور قوانین کی بہتری کے خلاف نہیں، تاہم ان کا نفاذ ایسا ہونا چاہیے کہ صنعتوں کو نقصان نہ پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ ایف آئی آرز کاروباری ماحول کو نقصان پہنچا رہی ہیں، اس کے بجائے جرمانے اور اصلاحی اقدامات کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
صنعتکاروں کے تحفظات اور واسا (WASA) کا کردار
وفد کے سربراہ ادیب اقبال شیخ نے واسا کے بلوں، ادائیگیوں کے طریقہ کار اور واسا و لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کی جانب سے ایف آئی آرز پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ صنعت کار اپنے حقیقی واجبات ادا کرنے کے لیے تیار ہیں، تاہم متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ ان کے مسائل سنیں اور مشاورت کے ذریعے حل نکالیں۔ اجلاس میں شرکاء نے فیروز پور روڈ کی ٹوٹی ہوئی سڑکوں، نکاسی آب، صفائی اور دیگر بنیادی سہولتوں کے مسائل بھی اٹھائے۔
اہم سوالات و جوابات
ایکسپورٹ لیڈ گروتھ کو کیسے یقینی بنایا جا سکتا ہے؟
لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر کے مطابق، برآمدات میں اضافے کے لیے صنعت کاروں کو سازگار کاروباری ماحول فراہم کرنا اور ان کی شکایات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ضروری ہے۔
صنعتکاروں کے لیے نئی سہولت کیا ہے؟
چیمبر نے شکایات کے فوری ازالے کے لیے کمپلینٹ سیل قائم کیا ہے جسے وزیراعظم کے اقتصادی وزارتوں سے متعلق ڈیش بورڈ کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔
