قیمتی پتھروں کی برآمدات بڑھانے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف متحرک
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے قیمتی پتھروں و جواہرات کے شعبے میں پائلٹ پراجیکٹ کی تیاری میں سست روی پر اظہار برہمی کرتے ہوئے قیمتی پتھروں کی برآمدات بڑھانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ بدھ 14 اکتوبر 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے جائزہ اجلاس میں وزیرِ اعظم نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ منصوبوں میں کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ یہ اقدامات پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے ایکسپورٹ لیڈ گروتھ کے ویژن کا حصہ ہیں۔
اہم نکات
- قیمتی پتھروں کی کان کنی اور ویلیو ایڈیشن کے لیے ایک مکمل ایکو سسٹم تیار کیا جائے گا۔
- غیر معیاری کان کنی اور اسمگلنگ کے باعث ملک کو سالانہ اربوں ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔
- گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور خیبر پختونخوا میں 8 نئے بلاکس کی نشاندہی کی گئی ہے۔
- اس سال شعبے کی ترقی کے لیے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ کے تحت ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
- برآمد کنندگان کے لیے 7 شہروں کے 10 بینکوں میں 80 ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن ڈیسک قائم کیے گئے ہیں۔
قیمتی پتھروں کے شعبے میں اصلاحات اور مستقبل کا لائحہ عمل
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو معدنیات کی دولت سے مالا مال کیا ہے، تاہم اب ہمیں خطے کے دیگر ممالک کی طرح ‘برانڈ پاکستان’ پر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے ‘سینٹرز آف ایکسیلینس’ کے قیام کے لیے جلد لائحہ عمل مرتب کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ حسین آباد سکردو میں سینٹر آف ایکسیلینس کے لیے 4.8 کنال زمین منتقل ہو چکی ہے اور فنڈز کی دستیابی کے بعد تعمیر جلد شروع ہو جائے گی۔ وفاقی حکومت کی جانب سے کیے جانے والے یہ اقدامات صنعتی ترقی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں، جس طرح پاکستان کی فیشن اور ٹیکسٹائل برآمدات بڑھانے کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
جیولوجیکل میپنگ اور حکومتی عزم
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور خیبر پختونخوا میں جیولوجیکل میپنگ مکمل ہو چکی ہے، جس سے قیمتی پتھروں کی دریافت کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ وزیرِ اعظم نے زور دیا کہ ماڈل مائنز کی تعمیر میں حائل تمام رکاوٹوں کو فی الفور دور کیا جائے تاکہ برآمدات میں اضافہ ہو سکے۔ اس موقع پر مکہ دفاعی اتحاد کے تحت سعودی عرب کے دفاع کے لیے پاکستان شانہ بشانہ کھڑا ہوگا کے عزم کا اظہار کرنے والے حکومتی اراکین سمیت وفاقی وزراء جام کمال خان، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، احد خان چیمہ، احسن اقبال، عطاء اللہ تارڑ، علی پرویز ملک، مشیر وزیرِ اعظم ہارون اختر اور وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی موجود تھے۔
اہم سوالات و جوابات
قیمتی پتھروں کی برآمدات بڑھانے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟
حکومت نے اس شعبے کے لیے ایک ارب روپے مختص کیے ہیں اور سات شہروں کے 10 بینکوں کی 80 شاخوں میں ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن ڈیسک قائم کیے ہیں۔
سینٹرز آف ایکسیلینس کہاں قائم کیے جا رہے ہیں؟
حسین آباد سکردو میں زمین منتقل ہو چکی ہے، جبکہ آزاد جموں و کشمیر اور اسلام آباد میں بھی منصوبے کے لیے جگہوں کی نشاندہی کر لی گئی ہے۔
