مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 18°C
بدھ، 28 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.81 EUR/PKR 309.66 GBP/PKR 369.47 سونا/تولہ (عالمی) 421,615 PKR Bitcoin $80,629 USD/PKR 276.81 EUR/PKR 309.66 GBP/PKR 369.47 سونا/تولہ (عالمی) 421,615 PKR Bitcoin $80,629
بزنس

صنعتی پالیسی میں برآمدی شعبے کا سپر ٹیکس ختم، ہارون اختر

📅 ✍️ ⏱ 3 منٹ
صنعتی پالیسی میں برآمدی شعبے کا سپر ٹیکس ختم، ہارون اختر (تصویر 1)
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (LCCI) کا دورہ کیا اور اہم معاشی اعلانات کیے۔ پاکستان اور برطانیہ کا تجارت، سرمایہ کاری، مصنوعی ذہانت اور آئی ٹی میں شراکت داری بڑھانے پر اتفاق کے بعد حکومت کی جانب سے ملکی صنعت کو سہارا دینے کی حکمت عملی پر زور دیا جا رہا ہے۔

برآمدی شعبے کے لیے خوشخبری

صنعتی پالیسی میں برآمدی شعبے کا سپر ٹیکس ختم، ہارون اختر (تصویر 2)

ہارون اختر خان نے کہا کہ حکومت نے برآمدی کاروبار پر سپر ٹیکس مکمل ختم کردیا ہے، جبکہ 50 کروڑ روپے سے زائد منافع کمانے والے غیر برآمدی کاروبار پر اس کی شرح 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کردی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا پاکستان آرڈیننس فیکٹری واہ کا دورہ بھی ملکی صنعتی قوت کو اجاگر کرتا ہے اور اسی تناظر میں حکومت صنعتکاری کے فروغ، بیمار یونٹس کی بحالی اور نجی شعبے کو آسان شرائط پر فنانسنگ فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

نئی صنعتی پالیسی اور اقدامات

صنعتی پالیسی میں برآمدی شعبے کا سپر ٹیکس ختم، ہارون اختر (تصویر 3)

وزیراعظم کے معاون خصوصی نے بتایا کہ بیٹری انرجی اسٹوریج، سولر پینلز، موبائل فون مینوفیکچرنگ اور الیکٹرک گاڑیوں کے لیے نئی پالیسیاں تیار کی گئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے سندھ طاس معاہدہ بدستور موثر ، پابند اور مکمل نافذ العمل ہے، بھارت یکطرفہ طور پر اسے معطل یا غیر موثر قرار نہیں دے سکتا، اسحاق ڈار کے مؤقف کی طرح معاشی خودمختاری کے لیے صنعتی شعبے کو تحفظ دینے کی پالیسی اپنائی ہے۔ نئی صنعتی پالیسی میں بیمار یونٹس کی بحالی، کاروباری اداروں کو ہراسانی سے تحفظ اور کمرشل کورٹس کے قیام جیسے اقدامات شامل ہیں۔

لاہور چیمبر کے صدر کا موقف

صنعتی پالیسی میں برآمدی شعبے کا سپر ٹیکس ختم، ہارون اختر (تصویر 4)

لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ پاکستان کی معیشت میں حالیہ عرصے کے دوران مثبت اشاریے سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ بلند کاروباری لاگت پاکستانی صنعت کو خطے میں غیر مسابقتی بنا رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بجلی کے نرخوں کو علاقائی سطح پر مسابقتی بنایا جائے تاکہ صنعتیں بند ہونے سے بچ سکیں۔

معاشی استحکام کی اہمیت

ہارون اختر خان نے کہا کہ وزیراعظم خود صنعتی پس منظر رکھتے ہیں اور صنعتکاروں کے مسائل کو سمجھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اسٹیل ملز کی 6,400 ایکڑ زمین کو لینڈ لیز ماڈل پر منتقل کیا گیا ہے تاکہ سرمایہ کاری کے لیے آسانیاں پیدا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کے ساتھ بھی 600 سے زائد مشترکہ منصوبے زیر غور ہیں جو ملکی معیشت کے لیے اہم ثابت ہوں گے۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں