قازاخستان میں صدر توکایف کی حامی جماعت ادلیت کی پارلیمانی انتخابات میں کامیابی
آستانہ (نمائندہ خصوصی)۔ قازاخستان میں ہونے والے قبل از وقت پارلیمانی انتخابات میں صدر قاسم جومارت توکایف کی حمایت یافتہ نئی سیاسی جماعت ‘ادلیت’ نے 71 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کرکے واضح برتری حاصل کرلی ہے، جس سے صدر کی سیاسی گرفت مزید مستحکم ہونے کا امکان ہے۔ قازاخستان کے مرکزی الیکشن کمیشن کے ابتدائی نتائج کے مطابق ‘ادلیت’ رواں سال وجود میں آنے والی نئی سیاسی جماعت ہے، جسے صدر توکایف کے قریبی سیاسی حلقوں کی حمایت حاصل ہے۔ اس جماعت نے بعد ازاں سابق حکمران جماعت ‘امانت’ کو بھی اپنے اندر شامل کرلیا تھا۔
انتخابی عمل اور نئی پارلیمانی ساخت

23 اگست کو ہونے والے انتخابات آئینی اصلاحات کے بعد ملک میں منعقد ہونے والے پہلے پارلیمانی انتخابات تھے۔ نئی سیاسی ساخت کے تحت سابق دو ایوانی پارلیمنٹ کی جگہ 145 نشستوں پر مشتمل یک ایوانی پارلیمنٹ ‘قورولتائی’ تشکیل دی گئی ہے۔ ادلیت کے علاوہ ‘ریسپبلیکا’، ‘آک ژول’، ‘نیشن وائیڈ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی’ اور ‘آؤل پارٹی’ بھی پارلیمانی نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔ تاہم سیاسی مبصرین کے مطابق ان میں سے بیشتر جماعتوں کے حکومت کے ساتھ قریبی روابط ہیں، جس کے باعث نئی پارلیمنٹ میں مؤثر اپوزیشن اور حکومتی پالیسیوں کو چیلنج کرنے کی گنجائش محدود رہنے کا امکان ہے۔ اس ضمن میں چیئرمین سینیٹ کی قطری وفد سے ملاقات اور دیگر سفارتی پیش رفتوں کے تناظر میں قازاخستان کی داخلی سیاست کا گہرا اثر پڑتا ہے۔

آئینی ترامیم اور سیاسی مستقبل

حالیہ آئینی ترامیم نے قازاخستان کے سیاسی نظام میں نمایاں تبدیلیاں کی ہیں اور صدر کے اختیارات کو بھی وسیع کیا گیا ہے۔ صدر توکایف، جو 2019 سے اقتدار میں ہیں، نے ابھی یہ اعلان نہیں کیا کہ وہ مستقبل میں دوبارہ صدارتی انتخاب لڑیں گے یا نہیں، تاہم نئی آئینی شقوں کے تحت انہیں مزید سات سالہ مدت کے لیے انتخاب لڑنے کی اجازت کا راستہ موجود ہے۔ جیسے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور ازبکستان کے وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ خطے میں امن کی ضمانت ہے، اسی طرح قازاخستان کی یہ تبدیلی بھی اہمیت رکھتی ہے۔

عوامی شرکت اور علاقائی اثرات
انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ 74 فیصد سے زیادہ رہا، جو حکومت کے مطابق انتخابی عمل میں عوام کی نمایاں شرکت کو ظاہر کرتا ہے۔ وسطی ایشیا میں اہم جغرافیائی اور اقتصادی حیثیت رکھنے والا قازاخستان تیل، گیس، یورینیم اور دیگر معدنی وسائل سے مالا مال ہے۔ ملک روس، چین اور مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات میں توازن برقرار رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، اس لیے قازاخستان کی داخلی سیاسی تبدیلیاں علاقائی اور عالمی سطح پر بھی اہمیت رکھتی ہیں۔ ایکنک نے لاہور–ساہیوال–بہاولنگر موٹروے منصوبے کی منظوری دے دی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ خطے میں سیاسی استحکام کو بھی اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔
