خلیج فارس کے عرب ممالک میں امریکی پالیسیوں پر شدید تحفظات
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ خلیج فارس کے عرب اتحادیوں اور واشنگٹن کے مابین تعلقات میں ایک بار پھر شدید تناؤ اور خلیج دیکھنے میں آ رہی ہے، کیونکہ خطے میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ معرکہ آرائی کو سنبھالنے میں مبینہ ناکامی پر عرب ریاستوں کی بے چینی میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ خلیجی حکام کا ماننا ہے کہ واشنگٹن کی غیر متوقع پالیسیوں اور سفارتی اقدامات میں مسلسل ناکامی نے پورے خطے کو سنگین خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
واشنگٹن کی پالیسیوں پر عرب ریاستوں کا عدم اطمینان
امریکی اخبار ’دی واشنگٹن پوسٹ‘ کی ایک مفصل رپورٹ کے مطابق خلیج فارس کی پانچ اہم ترین ریاستوں—سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور بحرین—کے حکام واشنگٹن کے موجودہ رویے پر ناراض ہیں۔ عرب اور مغربی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک میں یہ احساس گہرا ہو رہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ پائیدار معاہدے تک پہنچنے کے لیے درکار پیچیدہ سفارت کاری میں مؤثر ثابت نہیں ہو رہے۔
سیکیورٹی چیلنجز اور بڑھتی ہوئی مایوسی
گذشتہ کئی ماہ سے جاری تنازع کے دوران ایران اور اس کی اتحادی تنظیموں کی جانب سے ڈرون اور میزائل حملوں نے خلیجی ممالک کے لیے متعدد سیکیورٹی اور اقتصادی چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔ ایک عرب عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ اس کشیدگی کا آغاز واشنگٹن کے فیصلوں سے ہوا لیکن اس کی بھاری قیمت خطے کے ممالک چکانے پر مجبور ہیں۔ یہ صورتحال اس تناظر میں انتہائی اہم ہے کیونکہ ٹرمپ کا سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے دفاعی معاہدے کا خیرمقدم بھی اس بدلتی ہوئی سفارتی حقیقت کو تسلیم کرنے کی جانب ایک قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
عسکری اڈوں کی افادیت پر دوبارہ غور
اس بڑھتی ہوئی بے دلی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کچھ خلیجی حکومتوں نے اب اپنی سرزمین پر موجود امریکی فوجی اڈوں کی افادیت پر دوبارہ غور کرنا شروع کر دیا ہے۔ ماضی میں ان اڈوں کو خطے کی سلامتی کے لیے ناگزیر سمجھا جاتا تھا، مگر اب امریکی سیکیورٹی گارنٹیوں پر عدم اعتماد نے ان کی میزبانی جاری رکھنے پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، حال ہی میں سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان طے پانے والا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ واشنگٹن کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ خطے کے ممالک اب اپنی سلامتی کے لیے صرف امریکا کے بھروسے پر نہیں رہ سکتے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان ترکیہ اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر خطے کے دفاع و سلامتی میں تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا، وزیراعظم کا موقف بھی اسی تزویراتی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔
وائٹ ہاؤس کا مؤقف اور زمینی حقائق
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے ان تاثرات کی تردید کرتے ہوئے موقف اپنایا ہے کہ صدر ٹرمپ کے خلیجی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات انتہائی مضبوط ہیں۔ تاہم، زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے پہلے سخت فوجی کارروائی کی دھمکیاں دینا اور پھر اچانک پیچھے ہٹ جانے کی پالیسی نے عرب دارالحکومتوں کو گہری تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہ بدلتی ہوئی صورتحال، جس طرح غزہ جنگ بندی منصوبہ، کوشنر کی حماس رہنما سے مصر میں اہم ملاقات، نیتن یاہو سے جیسے معاملات میں پیچیدگیاں پیدا کر رہی ہے، اسی طرح خلیجی ممالک کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
