مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 16°C
منگل، 27 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.81 EUR/PKR 309.66 GBP/PKR 369.47 سونا/تولہ (عالمی) 416,394 PKR Bitcoin $80,195 USD/PKR 276.81 EUR/PKR 309.66 GBP/PKR 369.47 سونا/تولہ (عالمی) 416,394 PKR Bitcoin $80,195
عالمی

دنیا کے امیر ترین شخص جین پال گیٹی، سفر سے خوفزدہ

📅 ✍️ ⏱ 5 منٹ
تصویر
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ دنیا کی تاریخ میں چند ایسے کردار بھی گزرے ہیں جن کی زندگی بے پناہ دولت اور عجیب و غریب عادات کا ایک انوکھا امتزاج رہی ہے۔ انہی میں ایک نام امریکی تیل کے تاجر جین پال گیٹی (J. Paul Getty) کا ہے، جنہیں 1957 میں مشہور مجلے ’فارچیون‘ نے دنیا کا سب سے امیر ترین ترین انسان قرار دیا تھا اور گنیز ورلڈ ریکارڈز میں ان کا نام دنیا کے سب سے امیر ترین نجی شہری کے طور پر درج ہوا۔ 1960 اور 1970 کے دہائیوں میں ان کے اثاثوں کی مالیت اربوں ڈالر تک پہنچ چکی تھی، لیکن اس کے باوجود ان کی زندگی عجیب الخلقت خوف اور حد درجہ کنجوسی کی داستانوں سے بھری ہوئی تھی۔

تیل کی دولت اور کاروباری سلطنت

پال گیٹی نے اپنی دولت کا بڑا حصہ 1940 اور 1950 کے دہائیوں میں سعودی عرب اور کویت کے سرحدی علاقوں میں تیل کے کنوؤں کی کامیاب ڈرلنگ سے کمایا۔ ان کی گٹی آئل کمپنی دنیا کی بڑی کارپوریشنز میں شمار ہونے لگی۔ جس طرح پاکستان ترکیہ اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر خطے کے دفاع و سلامتی میں تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا، وزیراعظم کی پالیسیوں میں خطے کا استحکام اہم ہے، اسی طرح گیٹی کا اثر و رسوخ بھی عالمی منڈیوں پر گہرا تھا۔

سفر سے خوف اور محدود زندگی

لیکن بے تحاشا دولت اور وسائل ہونے کے باوجود گیٹی کی شخصیت کا سب سے عجیب پہلو ان کا ہوائی جہاز اور سمندری سفر سے شدید خوف تھا، جسے طبی اور نفسیاتی زبان میں ’ایویو فوبیا‘ (Aviophobia) کہا جاتا ہے۔ 1950 کی دہائی میں جب ایک ہوائی جہاز کے سفر کے دوران شدید جھٹکے لگے اور حادثے کی صورتحال پیدا ہوئی، تو پال گیٹی اس حد تک خوفزدہ ہوئے کہ انہوں نے آئندہ کبھی ہوائی جہاز میں قدم نہ رکھنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس خوف کی وجہ سے انہوں نے 1951 میں امریکہ چھوڑ کر برطانیہ کا رخ کیا اور اپنے قائم کردہ مشہورِ زمانہ ’گیٹی میوزیم‘ اور متعدد تجارتی سلطنتوں کا انتظام انگلینڈ کے ایک تاریخی محل سے ہی سنبھالا۔ وہ کبھی واپس امریکہ نہیں گئے اور نہ ہی اپنے ہاتھوں سے تعمیر کیے گئے شاندار گیٹی میوزیم کو زندگی میں دیکھ سکے۔ یہ صورتحال کسی بھی بڑے کاروباری شخصیت کے لیے غیر معمولی ہے، جس طرح وزیر داخلہ کی زیر صدارت اجلاس، ذیلی اداروں سے دو سالہ جامع ٹرانسفارمیشن پلان طلب کیا گیا تاکہ دفتری امور کو بہتر بنایا جا سکے، گیٹی نے اپنی زندگی کو ایک محدود دائرے میں سمو لیا تھا۔

عجیب و غریب کنجوسی کے قصے

ہوائی جہاز کے ساتھ ساتھ وہ سمندری جہازوں کے طویل اور غرقاب ہو جانے والے سفر سے بھی گھبراتے تھے، جس کے باعث ان کی نقل و حرکت انتہائی محدود ہو کر رہ گئی تھی۔ دنیا کی تمام تر ترقیاں اور تیز ترین سفری سہولیات ان کی دہلیز پر تھیں، لیکن وہ یورپ میں صرف کاروں اور ٹرینوں کے ذریعے ہی سفر کرتے تھے۔ سفر کے اس خوف کے علاوہ وہ اپنی حیرت انگیز بخل اور کنجوسی کی وجہ سے بھی دنیا بھر میں مشہور تھے۔ انہوں نے اپنے برطانیہ والے محل میں آنے والے مہمانوں کے لیے باقاعدہ پے فون (Payphone) لگوا رکھا تھا تاکہ کوئی ان کے خرچ پر لمبی فون کالز نہ کر سکے۔ اس کے علاوہ 1973 میں جب ان کے پوتے کو اغوا کر لیا گیا اور اغوا کاروں نے کروڑوں ڈالر کا تاوان مانگا، تو گیٹی نے کئی ماہ تک تاوان دینے سے انکار کر دیا اور صرف وہی رقم دی جو ٹیکس کی چھوٹ میں آتی تھی۔ جیسے غزہ جنگ بندی منصوبہ، کوشنر کی حماس رہنما سے مصر میں اہم ملاقات، نیتن یاہو سے ہونے والی بات چیت میں عالمی دباؤ کا کردار ہوتا ہے، گیٹی اپنی ضد پر اٹل رہے۔ جین پال گیٹی 1976 میں 83 سال کی عمر میں انتقال کر گئے، لیکن ان کی اربوں ڈالر کی سلطنت اور سفر کا یہ انوکھا خوف آج بھی تاریخ کا ایک دلچسپ باب ہے۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں