مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
جمعہ، 2 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 434,021 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $85,927 USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 434,021 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $85,927
زراعت

ایشیا میں آرگینک فارمنگ کرنے والے کاشتکاروں کی تعداد 27 لاکھ

📅 اتوار، 16 اگست 2026 ✍️ Dost news ⏱ 3 منٹ
ایشیا میں آرگینک فارمنگ کرنے والے کاشتکاروں کی تعداد 27 لاکھ
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ آرگینک خوراک اور مصنوعات پر ریسرچ کرنے والے ادارے کے سربراہ نجم مزاری نے کہا ہے کہ ایشیا میں آرگینک فارمنگ سے وابستہ کاشتکاروں کی تعداد 27 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ عالمی سطح پر معروف تحقیقی اداروں کے نیٹ ورک ایف آئی بی ایل کی رپورٹ کے مطابق ایشیا میں 2024 کے دوران 87 لاکھ ہیکٹر سے زائد رقبہ آرگینک مینجمنٹ کے تحت تھا جس میں بھارت تقریباً 39.7 لاکھ اور چین 35.9 لاکھ ہیکٹر کے ساتھ نمایاں رہے، جبکہ نئے صوبوں کے قیام کا فی الحال کوئی منصوبہ نہیں کے برعکس، ملکی زرعی شعبے میں بہتری لانا ناگزیر ہے۔

آرگینک بیجوں کی دستیابی اور حکومتی ذمہ داریاں

نجم مزاری نے مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر بیج تیار کرنے والے سرکاری ادارے بیجوں کی تیاری کے مجموعی ہدف میں کم از کم 10 فیصد حصہ آرگینک بیجوں کے لیے مختص کریں۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ معیاری اور تصدیق شدہ آرگینک بیج دستیاب نہ ہونے کے باعث پاکستان میں کاشتکاروں کو آرگینک زراعت کی طرف منتقل ہونے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ نجی بیج کمپنیوں کو بھی آرگینک بیج کی تحقیق، پیداوار اور مارکیٹنگ کی طرف راغب کرنے کے لیے ٹیکسوں میں رعایت، آسان قرضے اور دیگر مراعات دی جائیں۔

سرٹیفکیشن اور کلسٹرز کا قیام

انہوں نے کہا کہ حکومت آرگینک خوراک کی پیداوار کے لیے الگ سرٹیفکیشن، ٹیسٹنگ اور ٹریس ایبلٹی کا موثر نظام قائم کرے تاکہ ملکی مصنوعات عالمی منڈیوں میں اعتماد کے ساتھ برآمد کی جا سکیں۔ صوبائی سطح پر آرگینک کلسٹرز قائم کرکے کاشتکاروں کو تربیت، تکنیکی معاونت اور مارکیٹنگ کی سہولیات فراہم کی جائیں۔ جس طرح ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری راستوں کے نقشے پر اتفاق ہوا ہے، اسی طرح زراعت کے شعبے میں بھی درست حکمت عملی اختیار کر کے نتائج بدلے جا سکتے ہیں۔

قومی آرگینک ایگریکلچر پالیسی کی تشکیل

نجم مزاری نے کہا کہ آرگینک زراعت کو محض صحت مند خوراک کے تصور تک محدود رکھنے کی بجائے اسے برآمدات، دیہی روزگار، زمین کی صحت اور زرعی معیشت کی بہتری سے جوڑا جائے۔ جس طرح چین کی گوانگ ڈونگ ریجنل مینز ہاکی ٹیم 12 سے 30 اکتوبر تک پاکستان کا دورہ کرے گی، اسی طرح بین الاقوامی تعاون سے زرعی شعبے میں بھی تحقیق کو فروغ دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو بھارت اور چین سمیت خطے کے ممالک کے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے قومی آرگینک ایگریکلچر پالیسی تشکیل دینی چاہیے۔ اگر بروقت حکمت عملی اختیار کی جائے تو پاکستان آرگینک خوراک اور مصنوعات کی بڑھتی ہوئی عالمی طلب میں اپنا حصہ نمایاں طور پر بڑھا سکتا ہے۔

ٹیگز: #آرگینک فارمنگ #پاکستان ایگریکلچر #زرعی معیشت #کاشتکار #نجم مزاری
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں