نئے صوبوں کے قیام کا فی الحال کوئی منصوبہ نہیں، رانا ثناء اللہ

نئے صوبوں کے قیام کا فی الحال کوئی منصوبہ نہیں، رانا ثناء اللہ
اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ ملک میں نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے فی الحال کوئی منصوبہ تیار نہیں کیا گیا اور نہ ہی یہ معاملہ حکومت کے کسی فورم پر زیر بحث آیا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ نئے صوبوں کے حوالے سے مختلف دعوے سامنے آ رہے ہیں، کوئی 12 صوبوں کی بات کر رہا ہے، کوئی 20 اور کوئی 32 صوبے بنانے کی بات کرتا ہے، تاہم حکومت کے پاس اس حوالے سے کوئی باقاعدہ منصوبہ موجود نہیں۔
انہوں نے کہا کہ مقتدرہ کی جانب سے بھی حکومت کے ساتھ نئے صوبوں کے معاملے پر اب تک کوئی بات چیت نہیں ہوئی، جبکہ یہ معاملہ نہ کابینہ میں زیر بحث آیا ہے اور نہ ہی پارلیمنٹ میں اس پر کوئی گفتگو ہوئی ہے۔
رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ جو وفاقی وزرا نئے صوبوں کے قیام کی بات کر رہے ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ اپنا کوئی باقاعدہ فارمولا تحریری شکل میں سامنے لائیں تاکہ اس پر بات کی جا سکے۔
وزیراعظم کے مشیر نے علیم خان کی جانب سے نئے صوبوں سے متعلق بیانات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا انہوں نے صوبوں کے قیام کے حوالے سے کوئی باقاعدہ منصوبہ پیش کیا ہے؟ صرف بات کرنے یا پوڈ کاسٹ میں اظہار خیال کرنے سے صوبے نہیں بن سکتے۔
انہوں نے کہا کہ کوئی شخص محض اپنی خواہش یا خیالی تصور کی بنیاد پر یہ کہہ سکتا ہے کہ ملک میں اتنے صوبے ہونے چاہئیں، لیکن صوبوں کے قیام کے لیے باقاعدہ منصوبہ، سیاسی اتفاق رائے اور آئینی طریقہ کار ضروری ہے۔
مصطفیٰ کمال کے موقف کے حوالے سے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ان کا معاملہ صرف کراچی تک محدود ہے اور اسے ملک بھر میں نئے صوبوں کے قیام کے معاملے سے الگ دیکھا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عوامی سطح پر بھی نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے کوئی مقبول مطالبہ موجود نہیں۔ ان کے مطابق صوبہ ہزارہ کے مطالبے کے علاوہ ملک کے کسی دوسرے حصے میں عوام کی جانب سے نئے صوبے کے قیام کا کوئی نمایاں مطالبہ سامنے نہیں آ رہا۔
