مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
جمعرات، 8 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.08 EUR/PKR 310.30 GBP/PKR 366.25 سونا/تولہ 428,240 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $82,533 USD/PKR 277.08 EUR/PKR 310.30 GBP/PKR 366.25 سونا/تولہ 428,240 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $82,533
عالمی

مقبوضہ کشمیر اور آسام میں بھارتی یومِ آزادی یومِ سیاہ قرار

📅 ہفتہ، 15 اگست 2026 ✍️ Dost news ⏱ 4 منٹ
مقبوضہ کشمیر اور آسام میں بھارتی یومِ آزادی یومِ سیاہ قرار
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ مقبوضہ جموں و کشمیر سے لے کر آسام اور بھارت کی دیگر مظلوم ریاستوں تک، کشمیریوں اور دیگر آزادی پسند اقوام نے 15 اگست یعنی بھارت کے یومِ آزادی کو مکمل ‘یومِ سیاہ’ (Black Day) کے طور پر منایا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس (KMS) کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کی اپیل پر مقبوضہ وادی سمیت بھارت کی مختلف آزادی پسند ریاستوں میں مکمل ہڑتال کی گئی، تمام کاروباری مراکز، بازار، تعلیمی ادارے اور ٹرانسپورٹ مکمل طور پر بند رہے جبکہ سڑکیں اور بازار سنسان اور ویران منظر پیش کرتے رہے۔ جیسا کہ فلسطینی گاؤں قصرہ میں اسرائیلی آبادکاروں کا محاصرہ اور کشیدگی برقرار ہے، اسی طرح مقبوضہ کشمیر میں بھی بھارتی جبر کا سلسلہ جاری ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں فوجی چھاؤنی کا منظر

کے ایم ایس کی رپورٹ کے مطابق، 15 اگست کے موقع پر قابض بھارتی انتظامیہ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کو ایک وسیع ملٹری چھاؤنی میں تبدیل کر دیا تھا۔ سرینگر، بارہمولہ، اننت ناگ اور کپواڑہ سمیت تمام اضلاع میں ہزاروں اضافی بھارتی فوجی اور پیراملٹری اہلکار تعینات کیے گئے تھے، جبکہ اہم شاہراہوں، چوراہوں اور بازاروں کو خاردار تاروں سے بند کر کے جگہ جگہ موبائل چیک پوسٹس قائم کی گئی تھیں۔ قابض فورسز کی جانب سے شہریوں کی جامہ تلاشی، گاڑیوں کی بلامعطل تلاشی اور خوف و ہراس پھیلانے کے باوجود کشمیری عوام نے جرات اور استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے گھروں کی چھتوں پر سیاہ پرچم لہرائے اور بھارت کے غاصبانہ تسلط کے خلاف شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔

حقِ خود ارادیت اور احتجاج

حریت رہنماؤں اور ترجمان نے اپنے بیانات میں واضح کیا کہ جو ملک کروڑوں بے گناہ کشمیریوں کو ان کے بنیادی اور مسلمہ حقِ خودارادیت سے محروم رکھے ہوئے ہے اور جس کی قابض فورسز روزانہ کی بنیاد پر انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں کر رہی ہیں، اسے آزادی کا جشن منانے کا کوئی اخلاقی اور قانونی حق حاصل نہیں ہے۔ کشمیری عوام کا یہ متحد اور واضح پیغام عالمی برادری اور اقوامِ متحدہ کے لیے ایک واضح یاد دہانی ہے کہ کشمیری قوم بھارت کے 5 اگست 2019ء کے غیر قانونی اور جابرانہ اقدامات کو کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔ حکمرانوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اختیار ملے تو کردار بھی بلند ہونا چاہیے: حکمرانی کا سبق، مگر بھارتی رویہ اس کے برعکس ہے۔

آسام اور دیگر علاقوں میں بھی بائیکاٹ

خبر رساں ایجنسی کے مطابق صرف مقبوضہ کشمیر ہی نہیں بلکہ بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام، ناگالینڈ اور مانی پور سمیت دیگر مقبوضہ و مظلوم علاقوں میں بھی مقامی عوام نے بھارتی یومِ آزادی کا بائیکاٹ کیا اور 15 اگست کو ‘یومِ سیاہ’ کے طور پر منایا۔ آسام اور نارتھ ایسٹ کی مختلف آزادی پسند تنظیموں نے بھی ہڑتال کی اپیل پر عمل کرتے ہوئے بھارتی جابرانہ پالیسیوں اور نسلی تعصب کے خلاف اپنا شدید احتجاج درج کروایا۔ عالمی تجزیہ کاروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھارت کے اس رویے اور فوجی محاصرے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق کشمیر کا دیرینہ مسئلہ حل نہیں کیا جاتا، تب تک اس خطے میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔ 15 اگست کا یہ مکمل بائیکاٹ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ بھارتی تسلط کے خلاف عوامی جدوجہد پوری توانائی کے ساتھ زندہ ہے اور آزادی کی یہ شمع بجھائی نہیں جا سکتی۔ جیسے انڈونیشیا میں 7.7 شدت کا تباہ کن زلزلہ، 38 افراد ہلاک ہوئے اور پوری دنیا نے اس پر تشویش کا اظہار کیا، اسی طرح عالمی برادری کو کشمیریوں کے حقوق کے لیے بھی آواز اٹھانی چاہیے۔

ٹیگز: #آسام #بھارت #حریت کانفرنس #مقبوضہ کشمیر #یومِ سیاہ
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں