مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
جمعرات، 8 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.08 EUR/PKR 310.30 GBP/PKR 366.25 سونا/تولہ 428,240 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $82,533 USD/PKR 277.08 EUR/PKR 310.30 GBP/PKR 366.25 سونا/تولہ 428,240 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $82,533
عالمی

انڈونیشیا میں 7.7 شدت کا تباہ کن زلزلہ، 38 افراد ہلاک

📅 ہفتہ، 15 اگست 2026 ✍️ Dost news ⏱ 4 منٹ
انڈونیشیا میں 7.7 شدت کا تباہ کن زلزلہ، 38 افراد ہلاک
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

جکارتہ (نمائندہ خصوصی)۔ انڈونیشیا میں ہفتے کے روز تڑکے آنے والے 7.7 شدت کے انتہائی شدید اور تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 38 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔ ملک کی ڈیزاسٹر منیجمنٹ ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی ڈیٹا کے مطابق زلزلے کے شدید جھٹکوں کے باعث متعدد رہائشی عمارتیں، تجارتی مراکز اور انفراسٹرکچر مکمل اور جزوی طور پر زمین بوس ہو گئے ہیں، جس کے باعث ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ جیسے کہ ماضی میں پنجاب کو جنوبی ایشیا کا بڑا اے آئی ہب بنانے کا اعلان جیسی ترقیاتی خبریں سامنے آتی رہی ہیں، اسی طرح قدرتی آفات کے دوران جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ریسکیو آپریشن میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔

تباہ کاریوں کی تفصیل اور امدادی کارروائیاں

زلزلہ پیما مرکز اور مقامی حکام کے مطابق زلزلے کے جھٹکے اتنے شدید تھے کہ لوگ خوفزدہ ہو کر اپنے گھروں سے باہر نکل آئے اور کھلے آسمان تلے پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔ ہلاکتوں کی زیادہ تر تعداد عمارتوں کے ملبے تلے دبنے اور چھتیں گرنے کی وجہ سے ہوئی۔ متعدد شاہراہوں میں دراڑیں پڑ جانے اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث متاثرہ علاقوں تک امدادی ٹیموں کی رسائی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کئی علاقوں میں بجلی کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے جبکہ مواصلاتی رابطے بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ انڈونیشیا کی قومی ڈیزاسٹر ایجنسی کے ترجمان نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ زلزلے کے بعد ایمرجنسی ٹیمیں، ریسکیو ورکرز اور فوج کے دستے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ بھاری مشینری اور جدید آلات کی مدد سے ملبے تلے دبے ہوئے شہریوں کو نکالنے کی کوششیں جاری ہیں۔ مقامی ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، جن میں سے کئی افراد کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

آفٹر شاکس کا سلسلہ اور حفاظتی تدابیر

زلزلہ پیما ماہرین کا کہنا ہے کہ ابتدائی 7.7 شدت کے زلزلے کے بعد مسلسل آفٹر شاکس محسوس کیے جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ حکام نے ساحلی اور زلزلے سے شدید متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں کو محتاط رہنے اور غیر محفوظ یا دراڑ زدہ عمارتوں میں واپس نہ جانے کی سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ اس کے علاوہ زلزلے کے باعث سمندری لہروں میں تبدیلی کے خطرے کے پیش نظر ساحلی علاقوں میں زلزلے کی نگرانی سخت کر دی گئی ہے۔ جغرافیائی صورتحال اور بین الاقوامی ردعمل انڈونیشیا جغرافیائی لحاظ سے بحرالکاہل کے ‘رنگ آف فائر’ پر واقع ہے، جہاں ٹیکٹونک پلیٹوں کی مسلسل حرکت کے باعث زلزلے اور آتش فشاں پھٹنے کے واقعات اکثر پیش آتے رہتے ہیں۔ اس سے قبل بھی ملک کو کئی ہلاکت خیز زلزلوں اور سونامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ عالمی برادری اور امدادی تنظیموں نے اس قدرتی آفت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے انڈونیشیائی حکومت اور متاثرین کو ہر ممکن امداد فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ یاد رہے کہ ایسی صورتحال میں نظم و نسق سنبھالنا ایک کڑا امتحان ہوتا ہے، جس طرح اختیار ملے تو کردار بھی بلند ہونا چاہیے: حکمرانی کا سبق کے مصنفین نے زور دیا ہے کہ بحرانی کیفیت میں ذمہ دارانہ قیادت ہی عوام کا سہارا بنتی ہے۔ جبکہ دوسری جانب پائلٹ کا مثبت ڈرگ ٹیسٹ اور پرواز 805 کا پراسرار ڈرامہ جیسے واقعات کے برعکس، انڈونیشیا کا موجودہ ریسکیو مشن پوری طرح قومی یکجہتی کے ساتھ جاری ہے۔

ٹیگز: #انڈونیشیا #جکارتہ #رنگ آف فائر #زلزلہ #قدرتی آفت
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں