ایمرجنسی رسپانس کمیٹی کی ملک بھر میں ہنگامی امدادی کارروائیاں تیز

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ ایمرجنسی رسپانس کمیٹی (ERC) نے وفاقی اور صوبائی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ امدادی اور بحالی کی سرگرمیوں میں مزید تیزی لائیں، آفات سے نمٹنے کی تیاریوں کو مضبوط بنائیں، اداروں کے درمیان رابطہ مزید مؤثر کریں اور مستقبل کے موسمی خطرات کے اثرات کم کرنے کے لیے بروقت احتیاطی اقدامات یقینی بنائیں۔
ایمرجنسی رسپانس کمیٹی کا دسویں اجلاس
یہ ہدایات نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (NEOC) میں ہونے والے ایمرجنسی رسپانس کمیٹی کے دسویں اجلاس میں جاری کی گئیں۔ اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے ویڈیو لنک کے ذریعے کی۔ اجلاس میں وفاقی وزارتوں، صوبائی حکومتوں، چیف سیکریٹریز، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (PDMAs) اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
مون سون صورتحال اور انتظامی اقدامات
چیئرمین این ڈی ایم اے اور این ای او سی کی ٹیم نے اجلاس کو مون سون کی موجودہ صورتحال، موسم کی تازہ پیش گوئی، جانی و مالی نقصانات اور جاری ریسکیو، امدادی اور بحالی کی کارروائیوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ یہ پیش رفت اس بات کی متقاضی ہے کہ پاکستان کے نوجوان معاشی ترقی کا انجن، بروقت سرمایہ کاری ضروری ہے کے تناظر میں قومی اثاثوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ممکنہ خطرات اور حفاظتی اقدامات
کمیٹی کو بتایا گیا کہ ممکنہ طور پر متاثرہ اضلاع کے تمام ڈپٹی کمشنرز کو متوقع بارشوں اور ان سے وابستہ خطرات کے پیش نظر پہلے ہی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ بروقت تیاری اور مؤثر ردعمل یقینی بنایا جا سکے۔ این ای او سی نے بریفنگ میں بتایا کہ آئندہ چند روز کے دوران ملک کے شمالی اور وسطی علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے، جبکہ جنوب مشرقی سندھ کے بعض علاقوں میں بھی کہیں کہیں بارش متوقع ہے۔ یہ صورتحال ملک بھر میں ایک بڑے ملک بھر کی ہائیکورٹس میں 19 ججز کی تعیناتی صدارتی منظوری کی منتظر انتظامی عمل کے تسلسل کی طرح اہم ہے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
تعمیراتی اصولوں پر عملدرآمد
کمیٹی کو بتایا گیا کہ رواں مون سون سیزن میں زیادہ تر اموات کمزور اور غیر محفوظ عمارتوں کے منہدم ہونے کے باعث ہوئیں، جس سے محفوظ تعمیراتی اصولوں پر سختی سے عمل درآمد اور عوامی آگاہی کی ضرورت مزید اجاگر ہوئی ہے۔ اس ضمن میں ہمیں کار ساز کمپنیوں کے اعتراضات کے بعد حکومت نئی ای وی پالیسی واپس لینے پر مجبور جیسی پالیسی سازی کی طرح تعمیراتی شعبے میں بھی شفافیت لانی ہوگی۔ ایمرجنسی رسپانس کمیٹی نے وفاقی و صوبائی حکومتوں، ضلعی انتظامیہ، مسلح افواج، ریسکیو سروسز اور دیگر متعلقہ اداروں کی مشترکہ کاوشوں کو سراہتے ہوئے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی۔
