مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 3 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,689 USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,689
بزنس

کار ساز کمپنیوں کے اعتراضات کے بعد حکومت نئی ای وی پالیسی واپس لینے پر مجبور

📅 اتوار، 02 اگست 2026 ✍️ Dost news ⏱ 4 منٹ
کار ساز کمپنیوں کے اعتراضات کے بعد حکومت نئی ای وی پالیسی واپس لینے پر مجبور
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ حکومتِ پاکستان نے مقامی آٹو انڈسٹری کی جانب سے اٹھائے گئے شدید تحفظات اور دباؤ کے بعد نئی الیکٹرک وہیکل (EV) پالیسی پر نظرثانی کا فیصلہ کرتے ہوئے اس کا موجودہ مسودہ واپس لے لیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے نئی آٹو پالیسی 2026-31 کا مسودہ دوبارہ تیار کرنے کی اہم ذمہ داری نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو سونپ دی ہے تاکہ صنعت کے خدشات کو دور کیا جا سکے۔

کار ساز کمپنیوں کا مؤقف اور تحفظات

کار ساز کمپنیوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے مراعات دی جا سکتی ہیں، تاہم ایسی کوئی پالیسی قابل قبول نہیں جس کے نتیجے میں روایتی گاڑیوں کی مقامی صنعت غیر مساوی ٹیکس نظام یا دیگر غیر منصفانہ اقدامات سے متاثر ہو۔ صنعت نے حکومت پر زور دیا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی جانب منتقلی کا عمل مرحلہ وار ہونا چاہیے اور اس دوران مقامی مینوفیکچرنگ، آٹو پارٹس کی صنعت اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔ حال ہی میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں جاری تبدیلیوں کے پیش نظر یہ پیشرفت اہمیت اختیار کر گئی ہے، جیسے کہ مصنوعی ذہانت کی ضروریات پوری کرنے کے لیے خلاء میں ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے جیسے اقدامات سے ٹیکنالوجی کا مستقبل جڑا ہے۔

ٹیکس نظام اور مارکیٹ کی صورتحال

رپورٹ کے مطابق آٹو انڈسٹری ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پالیسی 2021-26 کی مدت ختم ہونے کے بعد نئی پالیسی بروقت نافذ نہ ہونے کے باعث یکم جولائی 2026 سے ہائبرڈ اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں پر جنرل سیلز ٹیکس (GST) دوبارہ 25 فیصد ہو گیا ہے۔ اس ٹیکس کے نفاذ کے بعد بعض کمپنیوں نے اپنی گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ کچھ کمپنیوں نے معاشی غیر یقینی صورتحال کے باعث انوائسنگ اور ڈیلیوری کا عمل عارضی طور پر روک دیا ہے۔ یاد رہے کہ کاروباری شعبے میں کسی بھی قسم کے بڑے فیصلوں کے اثرات چھ ہندسوں کی کمائی والے 10 بہترین چھوٹے کاروباری آئیڈیاز جیسے رجحانات کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔

متوازن پالیسی کا مطالبہ

پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹو موٹو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز (PAAPAM) اور دیگر صنعتی نمائندوں نے مطالبہ کیا ہے کہ نئی الیکٹرک وہیکل پالیسی تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بعد مرتب کی جائے۔ ان کا واضح مطالبہ ہے کہ ملک میں چارجنگ انفراسٹرکچر اور مقامی ای وی پارٹس انڈسٹری کی مناسب ترقی تک ہائبرڈ گاڑیوں کے لیے ایک متوازن ٹیکس پالیسی برقرار رکھی جانی چاہیے۔ صنعت کاروں کو خدشہ ہے کہ بغیر کسی منصوبہ بندی کے پالیسی کی تبدیلی سے آٹو انڈسٹری کے مسائل مزید بڑھ سکتے ہیں، جس سے نمٹنے کے لیے حکومتی سطح پر ملک بھر کی ہائیکورٹس میں 19 ججز کی تعیناتی صدارتی منظوری کی منتظر جیسی انتظامی نوعیت کی تیزی درکار ہے۔

ٹیگز: #آٹو انڈسٹری #اسحاق ڈار #الیکٹرک وہیکل #پاکستان #شہباز شریف
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں