ملک بھر کی ہائیکورٹس میں 19 ججز کی تعیناتی صدارتی منظوری کی منتظر

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعیناتی اور مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ ایک مرتبہ پھر آئینی اور سیاسی بحث بن گیا ہے۔ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی جانب سے اسلام آباد، لاہور، سندھ اور بلوچستان ہائیکورٹس کے لیے 19 نئے ایڈیشنل ججز کی سفارشات کے باوجود صدر مملکت کی منظوری تاحال زیر التوا ہے، جبکہ سندھ ہائیکورٹ کے ایک ایڈیشنل جج کی مدت ختم ہوچکی ہے اور پشاور ہائیکورٹ کے چار ججز کی مدت بھی 4 اگست کو مکمل ہونے والی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جوڈیشل کمیشن نے چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں 20 اور 21 جولائی کو ہونے والے اجلاسوں میں چار ہائیکورٹس میں نئے ایڈیشنل ججز کی تقرری کی سفارشات منظور کی تھیں۔ آئین کے آرٹیکل 175 اے کے تحت کمیشن کی سفارشات وزیراعظم کے ذریعے صدر مملکت کو بھیجی جاتی ہیں تاکہ تقرری کا حتمی مرحلہ مکمل ہوسکے۔
تاہم سفارشات صدر مملکت آصف علی زرداری کی منظوری کی منتظر رہنے کے باعث 27 جولائی کو مقررہ حلف برداری کی تقریب بھی مؤخر ہوگئی۔ ڈان کے مطابق اس تاخیر پر قانونی اور عدالتی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے جبکہ حکومت کی جانب سے طویل تعطل کی صورت میں آئینی راستے تلاش کرنے پر بھی غور کیا جارہا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ: 3 نئے ججز کی تقرری زیر التوا
اسلام آباد ہائیکورٹ کے لیے جوڈیشل کمیشن نے تین ناموں کی منظوری دی ہے۔ کمیشن نے ایاز شوکت، شہریار ارجمند اور عمیر مجید ملک کو ایڈیشنل ججز مقرر کرنے کی سفارش کی۔ ان سفارشات کی صدارتی منظوری تاحال نہیں ہوئی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے معاملے میں اس وقت بنیادی مسئلہ موجودہ ججز کی مدت ختم ہونا نہیں بلکہ نئے تجویز کردہ ججز کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری نہ ہونا ہے۔
یہ معاملہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ رواں سال اپریل میں اسلام آباد میں کمرشل ہائی رائز عمارتوں کیلئے پارکنگ قواعد میں نرمی کے حوالے سے جاری بحث کے دوران ہی اسلام آباد ہائیکورٹ کے بعض ججز کے تبادلے بھی ہوئے تھے۔ قائم مقام صدر یوسف رضا گیلانی نے وزیراعظم کے مشورے پر جوڈیشل کمیشن کی سفارشات کی منظوری دیتے ہوئے جسٹس محسن اختر کیانی کو لاہور ہائیکورٹ، جسٹس بابر ستار کو پشاور ہائیکورٹ اور جسٹس سمن رفعت امتیاز کو سندھ ہائیکورٹ منتقل کرنے کی منظوری دی تھی۔
لاہور ہائیکورٹ: 10 ججز کی سفارش، منظوری کا انتظار
لاہور ہائیکورٹ کو موجودہ صورتحال میں سب سے بڑی تعداد میں نئے ایڈیشنل ججز ملنے کی سفارش کی گئی ہے۔ جوڈیشل کمیشن نے 10 امیدواروں کی بطور ایڈیشنل جج تعیناتی کی منظوری دی۔ ان دس ججز کی تقرری بھی صدر مملکت کی منظوری اور اس کے بعد وزارت قانون کے نوٹیفکیشن سے مشروط ہے۔
یوں لاہور ہائیکورٹ میں بھی صورتحال نئے ججز کی تقرری کے التوا سے متعلق ہے، نہ کہ یہ کہ عدالت میں اس وقت ججز موجود نہیں۔ لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بینچ سمیت اس کے مختلف بینچز معمول کے مطابق کام کررہے ہیں، تاہم نئے ججز کی تقرری سے عدالتی استعداد میں اضافہ متوقع تھا۔
سندھ ہائیکورٹ: نئی تقرریاں بھی رکی ہوئی، ایک جج کی مدت ختم
سندھ ہائیکورٹ کی صورتحال نسبتاً زیادہ پیچیدہ ہے۔ جوڈیشل کمیشن نے تین نئے ایڈیشنل ججز کی تقرری کی سفارش کی ہے جن میں ہمایوں خان، سریش کمار اور ڈاکٹر شاہ نواز میمن شامل ہیں۔ ان سفارشات کے باوجود صدارتی منظوری نہ ہونے کے باعث نئے ججز کی حلف برداری نہیں ہوسکی۔
دوسری جانب سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس خالد حسین شاہانی کی بطور ایڈیشنل جج مدت 29 جولائی کو ختم ہوگئی۔ ان کی مدت میں مزید چھ ماہ کی توسیع کے لیے جوڈیشل کمیشن پہلے ہی سفارش کرچکا تھا، تاہم صدارتی منظوری اور متعلقہ نوٹیفکیشن جاری نہ ہونے کے باعث ان کی مدت ختم ہوگئی۔ یہ معاملہ اس لیے اہم ہے کہ صدر مملکت نے رواں سال جنوری میں جسٹس شاہانی سمیت بعض ایڈیشنل ججز کی مدت میں چھ ماہ کی توسیع کی منظوری دی تھی، مگر موجودہ توسیع تاحال مکمل نہیں ہوسکی۔
بلوچستان ہائیکورٹ: 3 نئے ججز بھی منظوری کے منتظر
بلوچستان ہائیکورٹ کے لیے بھی جوڈیشل کمیشن نے تین ایڈیشنل ججز کی تعیناتی کی سفارش کی ہے۔ بلوچستان ہائیکورٹ میں ان نئے ججز کی آمد سے عدالتی استعداد بڑھنے کی توقع تھے، تاہم دیگر ہائیکورٹس کی طرح یہاں بھی سفارشات صدارتی منظوری کے مرحلے میں رکی ہوئی ہیں۔ اس طرح اسلام آباد، لاہور، سندھ اور بلوچستان ہائیکورٹس کے لیے تجویز کردہ مجموعی 19 ججز میں سے بلوچستان کے تین ججز بھی اس وقت صدر کی منظوری کے منتظر ہیں۔
پشاور ہائیکورٹ: 4 ججز کی مدت 4 اگست کو ختم ہوگی
پشاور ہائیکورٹ کی صورتحال دیگر چار ہائیکورٹس سے مختلف ہے۔ یہاں موجودہ چار ایڈیشنل ججز کی مدت ملازمت 4 اگست کو ختم ہورہی ہے۔ جسٹس فرح جمشید، جسٹس انعام اللہ خان، جسٹس ثابت اللہ خان اور جسٹس اورنگزیب کی مدت میں مزید چھ ماہ کی توسیع کی سفارش پہلے ہی کی جاچکی ہے، تاہم حتمی منظوری اور نوٹیفکیشن کا مرحلہ ابھی باقی ہے۔ اگر مقررہ تاریخ تک منظوری اور نوٹیفکیشن جاری نہ ہوا تو ان چاروں ججز کے مستقبل کے حوالے سے بھی وہی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے جو سندھ ہائیکورٹ میں جسٹس خالد حسین شاہانی کے معاملے میں سامنے آئی ہے۔
صدر کی منظوری میں تاخیر پر اصل تنازع کیا ہے؟
صدارتی منظوری میں تاخیر نے آئینی اختیار اور صدر کے کردار کے حوالے سے ایک اہم قانونی سوال کھڑا کردیا ہے۔ ڈان کے مطابق حکومت کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ جوڈیشل کمیشن اور وزیراعظم کے ذریعے آئینی عمل مکمل ہونے کے بعد سفارشات صدر کے پاس پہنچ چکی ہیں اور غیر معمولی تاخیر سے عدالتی نظام متاثر ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب ایوان صدر سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 48 میں صدر کے بعض اختیارات کے حوالے سے صوابدید کا ذکر موجود ہے اور اس معاملے میں کوئی واضح وقت مقرر نہیں کیا گیا۔ قانونی ماہرین تاہم ماضی کے عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کررہے ہیں کہ اعلیٰ عدالتوں کے ججز کی تقرری کے معاملے میں صدر کا کردار مکمل طور پر صوابدیدی نہیں اور انہیں وزیراعظم کے مشورے پر عمل کرنا ہوتا ہے۔
حکومت آئینی راستہ اختیار کرنے پر غور کر رہی ہے
رپورٹس کے مطابق صدر کی جانب سے منظوری میں تاخیر برقرار رہنے کی صورت میں حکومت کی قانونی ٹیم مختلف آئینی راستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔ تاہم حکومت کی جانب سے فوری طور پر کسی حتمی قانونی اقدام کا اعلان نہیں کیا گیا۔ صدر کے ترجمان مرتضیٰ سولنگی نے کہا ہے کہ ججز کی تقرریاں مناسب وقت پر آگے بڑھیں گی، جبکہ وزارت قانون بھی معاملے کے خوش اسلوبی سے حل ہونے کے لیے پرامید ہے۔
تنازع صرف صدارتی منظوری تک محدود نہیں
اس معاملے کا ایک سیاسی پہلو بھی سامنے آیا ہے۔ حالیہ جوڈیشل کمیشن اجلاسوں میں مختلف امیدواروں پر اختلافات کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ حکومتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بعض سیاسی حلقے اپنے تجویز کردہ امیدواروں کو شامل نہ کیے جانے پر ناخوش ہیں۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق پیپلز پارٹی سے وابستہ جے سی پی رکن سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے مختلف ہائیکورٹس کے لیے 33 امیدواروں کے نام پیش کیے تھے، تاہم کمیشن نے ان میں سے متعدد ناموں کو منظور نہیں کیا۔ رپورٹ کے مطابق سندھ ہائیکورٹ کے لیے بعض ناموں پر عمر کے حوالے سے بھی اعتراضات سامنے آئے۔
یہ صورتحال اس تاثر کو تقویت دے رہی ہے کہ ججز کی حالیہ تقرریاں صرف عدالتی انتظامی معاملہ نہیں رہیں بلکہ اس کے سیاسی اثرات بھی نمایاں ہوگئے ہیں۔
عدالتی نظام پر ممکنہ اثرات
اگر منظوری میں تاخیر مزید طول پکڑتی ہے تو اس کے براہ راست اثرات ہائیکورٹس کی افرادی قوت اور مقدمات کی سماعت پر پڑ سکتے ہیں۔ نئے ایڈیشنل ججز کی تعیناتی کا مقصد عدالتی بوجھ کم کرنا اور زیر التوا مقدمات کی تعداد میں کمی لانا بھی ہے۔ خصوصاً سندھ اور پشاور ہائیکورٹس میں مدت ملازمت ختم ہونے یا ختم ہونے کے قریب پہنچنے والے ججز کا معاملہ فوری نوعیت اختیار کرچکا ہے۔
جنوری میں صدر مملکت نے جوڈیشل کمیشن کی سفارشات پر سندھ، لاہور اور پشاور ہائیکورٹس کے 27 ایڈیشنل ججز کی مستقلی یا مدت میں توسیع کی منظوری دی تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس آئینی عمل میں صدر کی منظوری پہلے بھی معمول کے مطابق مکمل ہوتی رہی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ موجودہ 19 نئے ججز کی تقرری میں تاخیر کب ختم ہوتی ہے اور کیا سندھ اور پشاور کے ججز کے معاملے میں بھی مدت ختم ہونے سے پہلے آئینی کارروائی مکمل کرلی جائے گی۔
فی الحال صورت حال یہ ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3، لاہور ہائیکورٹ کے 10، سندھ ہائیکورٹ کے 3 اور بلوچستان ہائیکورٹ کے 3 نئے ایڈیشنل ججز صدارتی منظوری کے منتظر ہیں، سندھ ہائیکورٹ کا ایک ایڈیشنل جج مدت مکمل کرچکا ہے جبکہ پشاور ہائیکورٹ کے 4 ججز کی مدت 4 اگست کو ختم ہونے والی ہے۔ یوں ججز کی تقرری کا معاملہ اب صرف عدالتی تقرریوں تک محدود نہیں رہا بلکہ صدر کے آئینی کردار، وزیراعظم کے مشورے، جوڈیشل کمیشن کے اختیار اور عدلیہ کی انتظامی ضروریات کے درمیان ایک اہم آئینی بحث کی شکل اختیار کرچکا ہے۔
