سعودی عرب کی تیل کے بعد کی معیشت کے لیے بڑی حکمت عملی
ریاض (نمائندہ خصوصی)۔ دنیا کے بڑے تیل برآمد کنندگان میں شامل سعودی عرب نے اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ مستقبل میں عالمی معیشت کا انحصار تیل پر کم ہوتا جائے گا، اپنی اقتصادی حکمت عملی کو مزید تیز کر دیا ہے۔ مملکت اب موجودہ تیل کی آمدنی کو آئندہ نسلوں کے لیے پائیدار معاشی بنیاد میں تبدیل کرنے کے منصوبے پر بھرپور انداز میں عمل پیرا ہے، جس میں پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (PIF) مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔
سعودی عرب کا وژن 2030 اور جدید معاشی اصلاحات
تقریباً 925 ارب ڈالر کے اثاثوں کے حامل سعودی خودمختار سرمایہ کاری فنڈ کے ذریعے حکومت سیاحت، مصنوعی ذہانت، جدید ٹیکنالوجی، کھیل، دفاعی صنعت، معدنیات، جدید انفراسٹرکچر اور مستقبل کے شہروں سمیت متعدد شعبوں میں ریکارڈ سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ ان منصوبوں کا مقصد صرف معیشت کو وسعت دینا نہیں بلکہ سعودی عرب کو تیل کے بعد کے دور میں بھی عالمی اقتصادی طاقت کے طور پر برقرار رکھنا ہے۔ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے وژن 2030 کے تحت گزشتہ چند برسوں سے سعودی عرب اپنی معیشت کو متنوع بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہا ہے۔ اسی حکمت عملی کے تحت نیوم سٹی، ریڈ سی پروجیکٹ، قدیہ، درعیہ، عالمی کھیلوں کے مقابلوں کی میزبانی، پاکستان کی تمام جامعات میں مصنوعی ذہانت کا کورس لازمی قرار دیئے جانے کے تناظر میں سعودی عرب بھی اپنے مصنوعی ذہانت کے مراکز اور دیگر جدید اقتصادی منصوبوں پر اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے تاکہ مملکت کے لیے آمدنی کے نئے ذرائع پیدا کیے جا سکیں۔
مستقبل کی نسلوں کے لیے پائیدار معاشی بنیاد
رپورٹ کے مطابق سعودی قیادت کا مؤقف ہے کہ موجودہ نسل کو تیل سے حاصل ہونے والی دولت کا فائدہ ضرور ملا ہے، لیکن مستقبل کی نسلوں کی خوشحالی اس بات سے مشروط ہے کہ آج ہی ایسے شعبوں میں سرمایہ کاری کی جائے جو آنے والے عشروں میں مستحکم اور پائیدار آمدنی فراہم کر سکیں۔ اسی سوچ کے تحت تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کو جدید شہروں، ہوٹلوں، سیاحتی منصوبوں، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، کھیلوں اور نئی صنعتوں کی ترقی پر خرچ کیا جا رہا ہے۔
عالمی منڈی اور معاشی اہداف
اگرچہ عالمی منڈی میں خام تیل کی نسبتاً کم قیمتوں نے سعودی حکومت پر مالی دباؤ بھی ڈالا ہے اور سعودی عرب میں جنرل ایجوکیشن قانون کی منظوری، تعلیمی اصلاحات کا آغاز جیسے اقدامات سے ثابت ہوتا ہے کہ مملکت مسلسل اصلاحات کی طرف گامزن ہے، تاہم سعودی حکام کا کہنا ہے کہ وژن 2030 مملکت کی بنیادی قومی حکمت عملی ہے اور اس پر عمل درآمد جاری رہے گا۔ حکومت کے مطابق سرمایہ کاری کے منصوبوں کو زیادہ مؤثر، مرحلہ وار اور معاشی طور پر پائیدار بنایا جا رہا ہے تاکہ طویل المدتی اہداف حاصل کیے جا سکیں۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب اسی رفتار سے اپنی معاشی اصلاحات اور سرمایہ کاری کی پالیسی جاری رکھتا ہے تو آئندہ ایک دہائی میں مملکت خلیجی ممالک نے آبنائے ہرمز کے متبادل سات آئل پائپ لائن منصوبے شروع کرنے کے ساتھ ساتھ صرف ایک بڑی تیل برآمد کرنے والی ریاست نہیں رہے گی بلکہ سیاحت، سرمایہ کاری، مصنوعی ذہانت، جدید صنعتوں اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی عالمی سطح پر ایک نمایاں اقتصادی مرکز کے طور پر ابھر سکتی ہے۔
