وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے چینی کمپنی کے سی ای او کی ملاقات

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے قومی صحت مصطفیٰ کمال سے چین کی معروف کمپنی ہواہوائی ہیلتھ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے اسلام آباد میں ایک اہم ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران پاکستان میں ہیپاٹائٹس ڈیلٹا وائرس کے مریضوں کے علاج کے لیے جاری پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس اجلاس میں وفاقی سیکرٹری ہیلتھ اسلم غوری، چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈریپ ڈاکٹر عبید ممتاز، معروف ہیماٹولوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر سعید ایس حامد اور کلینیکل ریسرچ کے ماہر سید منور علی بھی موجود تھے۔
ہیپاٹائٹس ڈیلٹا وائرس کے علاج میں پیش رفت
وزارتِ قومی صحت سے جاری اعلامیہ کے مطابق اس اہم نشست میں طبی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے اس بات پر زور دیا کہ ہیپاٹائٹس ڈیلٹا وائرس کے علاج سے متعلق (B2B) معاہدے پر کامیابی سے دستخط کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ پاکستان میں جدید طبی سہولیات اور مقامی سطح پر علاج کی دستیابی کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔
پاکستان اور چین کے مابین تکنیکی اور طبی تعاون
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان یہ تاریخی تعاون ہیپاٹائٹس ڈیلٹا کے مریضوں کے لیے جدید علاج کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ جیسا کہ نیوٹک نے پاکستان اور چین کے درمیان تکنیکی تعاون کو فروغ دیا ہے، اسی طرح صحت کے شعبے میں بھی دونوں ممالک کے روابط مضبوط ہو رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پاکستان میں اندازاً 10 لاکھ سے زائد افراد ہیپاٹائٹس ڈیلٹا سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
مریضوں کی سہولت اور ریگولیٹری اقدامات
وزیر صحت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس اقدام سے مریضوں کو جدید اور مؤثر علاج تک رسائی حاصل ہوگی اور پاکستان کے دواسازی کے شعبے میں استعدادِ کار کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی تعاون کو بھی فروغ ملے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ڈریپ (DRAP) تمام قانونی اور ریگولیٹری تقاضے ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنا رہی ہے تاکہ یہ دوا جلد از جلد پاکستانی مریضوں کے لیے دستیاب ہو سکے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ہیپاٹائٹس ڈیلٹا وائرس کی دوا کی فیز ٹو کلینیکل سٹڈی میں اس کی حفاظت اور افادیت کے مثبت نتائج سامنے آ چکے ہیں۔
