مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 17°C
جمعہ، 30 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.91 EUR/PKR 308.64 GBP/PKR 368.46 سونا/تولہ (عالمی) 416,638 PKR Bitcoin $80,734 USD/PKR 276.91 EUR/PKR 308.64 GBP/PKR 368.46 سونا/تولہ (عالمی) 416,638 PKR Bitcoin $80,734
قومی

وفاقی وزرا شزہ فاطمہ اور اعظم نذیر تارڑ کی مشترکہ پریس کانفرنس: ٹیلی کام بل کی وضاحت

📅 ✍️ ⏱ 4 منٹ
تصویر
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد۔5 جولائی (اے پی پی):

وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کام شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ اتفاق رائے کے ساتھ قانون سازی کی جا رہی ہے، ٹیلی کام بل کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ کسی کی ذاتی زمین پر قبضہ کیا جائے گا، ہم اپنے خلاف لگائے گئے مالی الزامات پر قانونی کارروائی کا پورا حق رکھتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔

ٹیلی کام بل کا مقصد اور وضاحت

انہوں نے کہا کہ ٹیلی کام بل پر عوام اور پارلیمان کو آگاہ کرنا انتہائی ضروری تھا، ٹیلی کام کا پرانا قانون موجودہ دور کی ضروریات سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ بل کا مقصد وزیراعظم کے وژن کے مطابق انٹرنیٹ کی فراہمی کو بہتر بنانا ہے۔ بطور آئی ٹی منسٹر، تیز ترین انٹرنیٹ کی فراہمی کو ممکن بنانا ان کی ذمہ داری ہے۔ شزہ فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ آئی ٹی بل 6 مہینے تک قومی اسمبلی میں زیر غور رہا، اور اسے سینیٹ سے کمیٹی میں بھیج کر روکا گیا، جسے وہ جمہوریت کا حسن قرار دیتی ہیں۔

ذاتی زمینوں پر قبضے کے تاثر کی تردید

شزہ فاطمہ خواجہ نے اس تاثر کو سختی سے رد کیا کہ بل کا مقصد کسی کی پرائیویٹ لینڈ (ذاتی زمین) پر قبضہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بل کو لے کر ان کے اور سیکریٹری آئی ٹی کے خلاف بلاوجہ میڈیا میں واویلا مچایا گیا، اور انہوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ بل کے حوالے سے لگائے گئے الزامات کی انکوائری کرائی جائے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ انہوں نے دنیا کی سب سے بڑی اسپیکٹرم نیلامی کی ہے اور اتفاق رائے کے ساتھ قانون سازی کی جا رہی ہے۔

مالی الزامات اور قانونی کارروائی کا حق

وفاقی وزیر نے کہا کہ ان پر اور سیکریٹری آئی ٹی پر بے بنیاد مالی فائدے حاصل کرنے کے الزامات لگائے گئے، اور وہ اپنے خلاف لگائے گئے مالی الزامات پر قانونی کارروائی کا پورا حق رکھتی ہیں۔

قانون و انصاف کے وزیر کا موقف

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ٹیلی کام بل کو لے کر میڈیا میں بے جا تشہیر کی گئی، اور یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ بل کے ذریعے کسی کی پرائیویٹ پراپرٹی پر قبضہ ہونے جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بل کی آڑ میں وزیر آئی ٹی اور سیکریٹری آئی ٹی پر مالی فائدے کے الزامات لگائے گئے۔

انٹرنیٹ کی فراہمی اور فری لانسنگ کی حوصلہ افزائی

وزیر قانون نے بتایا کہ وزیراعظم کے وژن کے مطابق ملک بھر میں انٹرنیٹ پہنچانا وزارت آئی ٹی کی ذمہ داری ہے۔ کمیٹی کو کسی کو نوازے جانے کے شواہد نہیں ملے، اور قومی اسمبلی سے بل 6 ترامیم کے ساتھ منظور ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی خواتین اور نوجوان گھر بیٹھے فری لانسنگ کے ذریعے کما رہے ہیں، اور یہ بل بنیادی طور پر ان ہا ¶سنگ سوسائٹیز کے حوالے سے تھا جو معاہدے کر کے پھر مکر جاتی ہیں۔ شہریوں کی ذاتی زمینوں سے فائبر گزارنے کے لیے مالکان کی اجازت لینا لازمی ہے۔

ذاتی پراپرٹی کے استعمال کا حق

اعظم نذیر تارڑ نے واضح کیا کہ اگر کوئی شہری انٹرنیٹ کے لیے اپنی ذاتی پراپرٹی نہیں دینا چاہتا تو یہ اس کا قانونی حق ہے، اور اس بل سے کسی کی ذاتی پراپرٹی زبردستی متاثر نہیں ہوگی۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں