ایران امریکہ معاہدہ: آبنائے ہرمز، جوہری پروگرام اور 60 روزہ فریم ورک
امریکہ اور ایران کے درمیان طویل کشیدگی اور فوجی تصادم کے خطرات کے بعد، ایک ممکنہ ایران امریکہ معاہدہ اور 60 روزہ فریم ورک عالمی سیاست کا محور بن گیا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق، واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک ایسے ابتدائی سمجھوتے پر کام جاری ہے جس کے تحت جنگ بندی میں 60 روز کی توسیع، آبنائے ہرمز کو عالمی جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھولنے اور ایران کے جوہری پروگرام پر تکنیکی مذاکرات شروع کرنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
یہ معاہدہ اگرچہ ابھی حتمی نہیں ہے، تاہم عالمی سفارتی حلقوں میں اسے مشرقِ وسطیٰ میں جاری خطرناک کشیدگی کو کم کرنے کی سمت میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ معاہدہ دستخط کے لیے تیار ہے، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستانی حکام نے بھی اس سلسلے میں سفارتی آمادگی کا اظہار کیا ہے، جس کی توثیق ریڈیو پاکستان کی حالیہ رپورٹس سے بھی ہوتی ہے۔ دوسری جانب تہران اس معاملے پر محتاط ہے اور اس کا کہنا ہے کہ سیاسی، قانونی اور تکنیکی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
مجوزہ معاہدے کا بنیادی خاکہ اور نکات
ذرائع کے مطابق، اس ابتدائی فریم ورک کے تین بڑے نکات سامنے آ رہے ہیں۔ پہلا، خطے میں جنگ بندی کو مزید 60 دن تک برقرار رکھنا تاکہ کسی بھی فوری فوجی تصادم کا خطرہ ٹالا جا سکے۔ دوسرا، آبنائے ہرمز کو دوبارہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے کھولنا۔ اور تیسرا، ایران کے جوہری پروگرام، انتہائی افزودہ یورینیم کے مستقبل اور بین الاقوامی نگرانی کے نظام پر تکنیکی سطح کی بات چیت کا آغاز کرنا۔
پاکستان، قطر اور دیگر ثالث ممالک کا کلیدی کردار
اس ممکنہ سفارتی پیش رفت میں پاکستان، قطر، مصر اور ترکی کا پسِ پردہ سفارتی کردار انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ حال ہی میں وزیراعظم شہباز شریف اور قطری وزیراعظم کا رابطہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام آباد اس عمل میں محض ایک مبصر نہیں بلکہ ایک فعال سہولت کار کے طور پر کام کر رہا ہے۔ قطر بھی اس عمل میں ایک کلیدی ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے جہاں قطری مذاکرات کار تہران اور واشنگٹن کے درمیان خلیج کو پاٹنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کا مستقبل
معاہدے کا سب سے حساس ترین حصہ ایران کا جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کی بندش کا خاتمہ ہے۔ امریکہ کا اصرار ہے کہ ایران کو انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر کو تلف یا ملک سے باہر منتقل کرنا ہوگا، جبکہ تہران کا مؤقف ہے کہ وہ اپنے پُرامن جوہری پروگرام کو محدود تو کر سکتا ہے لیکن اپنی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ اسی طرح، آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی حفاظت اور عالمی توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانا عالمی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔
علاقائی اثرات اور اسرائیل کا مؤقف
اس مجوزہ معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی پیچیدگی اسرائیل اور لبنان کی صورتحال ہے۔ اسرائیل اس سمجھوتے کا براہ راست حصہ نہیں ہے، لیکن اس کے سلامتی کے خدشات اور ایران مخالف سخت مؤقف اس پورے فریم ورک پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ دوسری طرف، ایران کی کوشش ہوگی کہ اس معاہدے کے ذریعے لبنانی سرحد پر بھی دیرپا امن قائم کیا جائے اور اس پر عائد معاشی پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی لائی جائے۔
