خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا فیصلہ ملکی مفاد میں تھا، وزیراعظم
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک، خیبر پختونخوا، عوام، معیشت اور معاشرے کو بچانے کے لیے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا فیصلہ ضروری تھا، کیونکہ دہشت گردی کے خلاف ماضی کی طرح مل کر مقابلہ کرنے کی دعوت دینے کے باوجود ہماری بات نہیں سنی گئی۔ وزیراعظم نے ہفتہ کو یہاں مسلم لیگ(ن) خیبر پختونخوا کی پارلیمانی پارٹی کے ارکان اور عہدیداوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ڈھائی سال میں ملک میں لانگ مارچ اور دھرنوں کی سیاست کی گئی۔ اس موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزرا اور ارکان پارلیمنٹ بھی موجود تھے۔
اہم نکات
- وزیراعظم شہباز شریف نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی خراب صورتحال پر گورنر راج کے نفاذ کو ناگزیر قرار دیا۔
- دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے 80 ہزار جانوں اور 150 سے 200 ارب ڈالر کا نقصان اٹھایا۔
- حکومت نے غریب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے 75 ارب روپے کی فیول سبسڈی اسکیم شروع کی۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا پس منظر اور وجوہات
وزیراعظم نے کہا کہ 2019 اور 2020 میں افغانستان سے دہشت گردوں کو واپس لا کر بسایا گیا، جس سے ملک کو بہت نقصان پہنچا۔ ان اڑھائی سالوں میں ہزاروں شہری، پولیس اور پاک فوج کے جوان شہید ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے انہیں دہشت گردی کے خلاف ماضی کی طرح مل کر مقابلہ کرنے کی دعوت دی، لیکن ہماری بات نہیں سنی گئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی کمیٹی نے 48 گھنٹے تک مذاکرات کیے لیکن طے شدہ مسودے کی منظوری نہیں مل سکی۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات سے انسانی جانوں کا ضیاع لمحہ فکریہ ہے اور اسی طرح دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بروقت فیصلے ضروری تھے۔
صوبائی ترقی اور حکومتی اقدامات
وزیراعظم نے کہا کہ 2010 کے این ایف سی ایوارڈ کے تحت خیبر پختونخوا کو اب تک 800 ارب روپے مل چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود صوبے میں پولیس کو جدید اسلحے اور تربیت کی فراہمی پر توجہ نہیں دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ چترال، ہری پور، مانسہرہ، باجوڑ اور شانگلہ میں دانش اسکولوں کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے تاکہ غریب بچوں کو معیاری تعلیم مل سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل خواندگی ہر نصاب کا حصہ ہونی چاہیے اور حکومت اسی عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا کے صدر اور وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے کہا کہ عوام نے انتشاری سیاست کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چینی منصوبوں کے لیے مقامی ہنرمند تیار کرنے کا پروگرام شروع کیا گیا ہے تاکہ صوبے کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع مل سکیں۔
اہم سوالات و جوابات
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا فیصلہ کیوں کیا گیا؟
وزیراعظم کے مطابق صوبے میں امن و امان کی ابتر صورتحال، معاشی نقصان اور دہشت گردی کے دوبارہ سر اٹھانے کے باعث عوام اور معاشرے کو بچانے کے لیے یہ فیصلہ ناگزیر تھا۔
حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں؟
حکومت نے فیول سبسڈی اسکیم کے لیے 75 ارب روپے مختص کیے ہیں جس سے اب تک ایک کروڑ 30 لاکھ افراد مستفید ہو چکے ہیں۔
