پاکستان حلال فورم کا انعقاد، خالد حسین مگسی کا اہم خطاب
اسلام آباد/کراچی (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی نے پہلے پاکستان حلال فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں حلال فورم کا انعقاد خوش آئند ہے اور حلال انڈسٹری عالمی معیشت کا ایک اہم شعبہ بن چکی ہے۔
اہم نکات
- حلال انڈسٹری عالمی معیشت کا ایک اہم اور تیزی سے ترقی کرتا ہوا شعبہ بن چکی ہے۔
- پاکستان عالمی حلال مارکیٹ میں نمایاں مقام حاصل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
- پاکستان حلال اتھارٹی (PHA) حلال مصنوعات کے معیار اور سرٹیفکیشن نظام کو مزید موثر بنائے گی۔
- نوجوانوں اور چھوٹے کاروباروں کے لیے حلال انڈسٹری میں ترقی کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
پاکستان حلال فورم اور برآمدات میں اضافہ
خالد حسین مگسی نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ پاکستان میں حلال مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حلال معیشت کے فروغ کے لیے سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت کا استعمال ناگزیر ہے۔ جس طرح ڈیجیٹل خواندگی آج کے دور کی ضرورت ہے، اسی طرح جدید ٹیکنالوجی سے لیس حلال انڈسٹری معاشی استحکام کا ذریعہ ہے۔
عالمی معیار اور پاکستان حلال اتھارٹی
وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ پاکستان حلال اتھارٹی ملک میں حلال مصنوعات کا قومی ریگولیٹری ادارہ ہے اور اس کے معیار و سرٹیفکیشن کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ عالمی معیار کی باہمی منظوری سے پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈیوں تک رسائی آسان ہوگی۔ جیسے مقامی ہنرمندوں کی تربیت معیشت کے لیے ضروری ہے، اسی طرح حلال شعبے میں عالمی اداروں کے ساتھ شراکت داری بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ خالد حسین مگسی نے فورم کے کامیاب انعقاد پر منتظمین کو مبارکباد بھی پیش کی۔
اہم سوالات و جوابات
پاکستان حلال اتھارٹی کا مرکزی کردار کیا ہے؟
پاکستان حلال اتھارٹی ملک میں حلال مصنوعات کے لیے ایک قومی ریگولیٹری ادارہ ہے جو مصنوعات کے معیار اور سرٹیفکیشن کے نظام کو موثر بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔
حلال انڈسٹری پاکستان کے لیے کیوں اہم ہے؟
حلال انڈسٹری عالمی معیشت کا ایک اہم شعبہ ہے، جس میں برآمدات بڑھانے اور نوجوانوں کے لیے کاروبار کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
