حکومت پاکستان کا تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس ریلیف، حقیقت یا سراب؟
پاکستان میں حکومت کی جانب سے تنخواہ دار طبقے کو انکم ٹیکس میں ریلیف اور وفاقی ملازمین کی تنخواہوں میں سات فیصد اضافہ جیسے دعوے تواتر کے ساتھ کیے جا رہے ہیں، لیکن معاشی ماہرین اور عوام اس پر شدید تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ایک ہاتھ سے دیے جانے والے اس معمولی ریلیف کے بدلے دوسرے ہاتھ سے بالواسطہ ٹیکسوں اور پیٹرولیم لیوی کی صورت میں کئی گنا زیادہ رقم واپس نہیں لی جا رہی؟
پیٹرولیم لیوی کا بوجھ اور عام موٹر سائیکل سوار
آج ملک کا ایک عام شہری جو سفر کے لیے موٹر سائیکل استعمال کرتا ہے، وہ پیٹرول پر عائد پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (PDL) کی مد میں روزانہ تقریباً 200 سے 250 روپے تک ادا کر رہا ہے۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ ایک متوسط شہری ماہانہ تقریباً 6 سے 7 ہزار روپے اور سالانہ ایک لاکھ روپے کے قریب صرف پیٹرولیم لیوی کی مد میں قومی خزانے میں جمع کرا رہا ہے۔ اگر گاڑی استعمال کرنے والے شہریوں کا حساب لگایا جائے تو یہ رقم کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔
بالواسطہ ٹیکس امیر اور غریب کے لیے یکساں
حکومتی دعووں اور وفاقی بجٹ کا بنیادی محور برآمدات پر مبنی معاشی ترقی قرار دینے کے برعکس، حقیقت یہ ہے کہ بالواسطہ ٹیکس (Indirect Taxes) امیر اور غریب دونوں سے یکساں وصول کیے جاتے ہیں، جس کا سب سے زیادہ منفی اثر کم آمدنی والے طبقے پر پڑتا ہے۔ پیٹرولیم لیوی کی مجموعی وصولی جو چند سال قبل محض چند سو ارب روپے تک محدود تھی، اب بڑھ کر ریکارڈ دو ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔ معاشی ماہرین نے بی بی سی اردو کی معاشی رپورٹس میں بھی اس صورتحال کی نشاندہی کی ہے کہ بجلی کے بلوں میں شامل بھاری سرچارجز، سیلز ٹیکس اور گیس کی قیمتوں نے عام آدمی کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔
کیا یہ واقعی ریلیف ہے؟
عوام کا مطالبہ ہے کہ جہاں ایک طرف وزیراعظم شہباز شریف کا ارکان سے معاشی ترقی کا عزم سامنے آتا ہے، وہیں حکومت محض انکم ٹیکس کی کٹوتی میں معمولی کمی دکھا کر ریلیف کا تاثر دینے کے بجائے حقائق سامنے لائے۔ شہریوں کو یہ بھی بتایا جائے کہ وہ پیٹرول، بجلی، گیس اور روزمرہ کی بنیادی اشیاء پر سال بھر میں مجموعی طور پر کتنا ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔ جب تک بالواسطہ ٹیکسوں کا یہ ظالمانہ نظام تبدیل نہیں ہوتا، تب تک کسی بھی قسم کا ریلیف محض ایک سراب رہے گا۔
