وفاقی بجٹ کا بنیادی محور برآمدات پر مبنی معاشی ترقی ہے، محمد اورنگزیب
اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے واضح کیا ہے کہ مالی سال 27-2026 کا وفاقی بجٹ پاکستان کو محض معاشی بحالی سے آگے بڑھا کر پائیدار اور برآمدات پر مبنی اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے ایک ٹھوس روڈ میپ فراہم کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بجٹ کا بنیادی مقصد کاروباری برادری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا اور ملکی برآمدات کو فروغ دینا ہے۔
برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کا نیا سفر
اسلام آباد میں بجٹ کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، جس کی تفصیلات ریڈیو پاکستان نے بھی نشر کیں، اور جس میں وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی بھی موجود تھے، وزیر خزانہ نے کہا کہ گزشتہ سال ہم معاشی بحالی کی بات کر رہے تھے، لیکن آج ہم اعتماد کے ساتھ ترقی کی طرف قدم بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس بجٹ کا بنیادی فلسفہ برآمدات کو معیشت کا کلیدی ستون بنانا ہے اور اس کے لیے تمام تر ضروری پالیسی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔
ٹیکس نظام میں اصلاحات اور تاجروں کو ریلیف
ٹیکس اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت نے کاروبار کرنے کی لاگت کو کم کرنے کے لیے ایڈوانس ٹیکس کا خاتمہ کیا ہے، جو برآمد کنندگان کے لیے نقد بہاؤ (liquidity) کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ اس کے علاوہ، بڑی کمپنیوں پر عائد سپر ٹیکس کی شرح کو 10 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کر دیا گیا ہے، جسے کاروباری حلقوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر سراہا گیا ہے۔ اس حوالے سے تفصیلی جائزہ عوام، تاجر، کسان، ملازمین اور صنعت پر بجٹ کے اثرات کی رپورٹ میں دیکھا جا سکتا ہے۔
وزیر خزانہ نے انکشاف کیا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی خصوصی ہدایات پر ذیلی برآمد کنندگان (sub-exporters) کو بھی سپر ٹیکس کے بوجھ سے ریلیف دینے کی تجویز تیار کی گئی ہے، جسے بجٹ کی حتمی منظوری کے دوران باضابطہ طور پر قانون کا حصہ بنایا جائے گا۔
ڈیجیٹلائزیشن اور سستے قرضوں کی فراہمی
محمد اورنگزیب نے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور آٹومیشن کے ذریعے انسانی مداخلت کو کم سے کم کیا جا رہا ہے تاکہ ٹیکس نظام کو شفاف اور سہل بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت نے بجٹ میں برآمد کنندگان کو صرف 4.5 فیصد کی رعایتی شرح پر سستے قرضے فراہم کرنے کے لیے 71 ارب روپے کی خطیر سبسڈی مختص کی ہے، جو کہ موجودہ مانیٹری پالیسی کی شرح سود کے تناظر میں برآمدی شعبے کے لیے ایک بہت بڑا تاریخی ریلیف ہے۔
آئی ٹی برآمدات اور مستقبل کے اہداف
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ صرف تجارتی خسارے کو کم کرنا کافی نہیں بلکہ ہمیں سروسز کے شعبے بالخصوص انفارمیشن ٹیکنالوجی (IT) کی برآمدات کو بڑھانا ہوگا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ مالی سال میں آئی ٹی برآمدات 4.5 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی، جو ملکی معیشت کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔ انہوں نے معاشی اسٹیک ہولڈرز اور چیمبرز آف کامرس کی طرف سے بجٹ پر ملنے والے مثبت ردعمل پر اطمینان کا اظہار کیا۔
