جعلی خبروں اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال پر قابو پائیں گے
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت جعلی خبروں، گمراہ کن معلومات، منفی پروپیگنڈے اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے، جس کے لیے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔
اہم نکات
- حکومت نے جعلی خبروں اور سائبر جرائم سے نمٹنے کے لیے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی قائم کر دی ہے۔
- سوشل میڈیا کے ذریعے ریاستی اداروں اور ملکی مفادات کے خلاف پروپیگنڈے کا تدارک اولین ترجیح ہے۔
- پاکستان سوشل میڈیا کو ضابطہ اخلاق کے تحت لانے کے لیے عالمی تجربات اور قوانین سے استفادہ کر رہا ہے۔
جعلی خبروں اور سوشل میڈیا کے تدارک کے لیے اقدامات
منگل کے روز ایوانِ بالا (سینیٹ) میں سینیٹر انوشہ رحمان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ جعلی خبریں پھیلانے کے منفی اثرات عالمی سطح پر دیکھے جا رہے ہیں اور پاکستان بھی اس مسئلے سے نبردآزما ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ استعمال کو موثر ضابطوں کے تحت لانا وقت کی اہم ضرورت ہے، اور حکومت اس حوالے سے چین سمیت دیگر ممالک کے تجربات کا بغور جائزہ لے رہی ہے۔
سائبر جرائم کے چیلنجز اور نئی ایجنسی کا کردار
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وضاحت کی کہ ماضی میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) کا سائبر کرائم ونگ ان معاملات کو دیکھتا تھا، تاہم جرائم کی بڑھتی ہوئی نوعیت کے پیش نظر نئی ایجنسی ناگزیر تھی۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کو بلیک میل کرنے، جھوٹی خبریں پھیلانے اور ریاستی اداروں کو نشانہ بنانے کے واقعات معاشرتی سطح پر سنگین نتائج کا باعث بن رہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ قانون کے مطابق کارروائی کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کی استعداد کار بڑھانا ضروری ہے تاکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے۔
اہم سوالات و جوابات
جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے کون سی ایجنسی بنائی گئی ہے؟
حکومت نے سائبر جرائم اور جعلی خبروں کے تدارک کے لیے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) قائم کی ہے۔
سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے حکومت کو کیا خدشات ہیں؟
حکومت کو خدشہ ہے کہ سوشل میڈیا کو ریاستی اداروں کو نشانہ بنانے، ملکی مفادات کے خلاف پروپیگنڈا کرنے اور شہریوں کو بلیک میل کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
