سعد رضوی اور انس رضوی ہماری تحویل میں نہیں، ایف آئی اے نے لاہور ہائیکورٹ میں رپورٹ جمع کرا دی
سعد رضوی اور انس رضوی ہماری تحویل میں نہیں، ایف آئی اے نے لاہور ہائیکورٹ میں رپورٹ جمع کرا دی
لاہور: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے لاہور ہائیکورٹ میں رپورٹ جمع کراتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ حافظ سعد حسین رضوی اور ان کے بھائی حافظ انس حسین رضوی ادارے کی تحویل میں نہیں ہیں۔
جسٹس جواد ظفر نے سعد رضوی اور انس رضوی کی بازیابی سے متعلق درخواست پر سماعت کی۔ اس موقع پر ایف آئی اے نے عدالت کو آگاہ کیا کہ دونوں رہنماؤں کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج ہے اور وہ ادارے کو مطلوب ہیں، تاہم دونوں اس وقت ایف آئی اے کی تحویل میں نہیں ہیں۔
درخواست گزار کے مطابق حافظ سعد رضوی اور حافظ انس رضوی 378 روز سے لاپتہ ہیں۔ دونوں رہنماؤں کی مبینہ گمشدگی کا معاملہ عدالت میں اٹھایا گیا ہے اور ان کی بازیابی کے لیے درخواست دائر کی گئی ہے۔
سماعت کے دوران وزارت داخلہ کی جانب سے رپورٹ پیش نہ کیے جانے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا اور وزارت داخلہ کو ایک ہفتے میں رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ دونوں رہنما اس وقت کہاں ہیں اور کس ادارے کی تحویل میں ہیں۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 3 نومبر 2026 تک ملتوی کردی۔
