قیمتی پتھروں کی برآمدات بڑھانے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف متحرک
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بدھ کے روز قیمتی پتھروں کے پائلٹ پروجیکٹ میں سست روی اور شعبے کی ترقی کے اقدامات میں تاخیر پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے اور ہدایت کی ہے کہ ترجیحی بنیادوں پر ایک ٹائم باؤنڈ ایکشن پلان تیار کیا جائے۔ وزیراعظم نے قیمتی پتھروں کی برآمدات بڑھانے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف متحرک ہیں اور اس بات پر زور دیا کہ اس شعبے کی ترقی ان کی ترجیحات میں شامل ہے جس میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
اہم نکات
- وزیراعظم نے قیمتی پتھروں اور جیولری کے شعبے میں ویلیو ایڈیشن کے لیے مکمل ایکو سسٹم بنانے کی ہدایت کی ہے۔
- پاکستان کو غیر معیاری کان کنی اور سمگلنگ کے باعث قیمتی پتھروں کے شعبے میں ہر سال اربوں ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔
- اسکردو کے علاقے حسین آباد میں سینٹر آف ایکسیلنس کے لیے 4.8 کنال اراضی منتقل کر دی گئی ہے۔
- موجودہ سال کے دوران شعبے کی ترقی کے لیے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) میں 1 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
- برآمد کنندگان کی سہولت کے لیے 7 شہروں کی 10 بینکوں کی 80 برانچوں میں ایکسپورٹ فیسیلی ٹیشن ڈیسک قائم کیے گئے ہیں۔
قیمتی پتھروں کے پائلٹ پروجیکٹ میں پیش رفت
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی بے پناہ قدرتی وسائل کی دولت سے مالا مال ہے، اس لیے قیمتی پتھروں اور معدنیات کے وسیع ذخائر سے فائدہ اٹھاتے ہوئے برآمدات میں اضافہ یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ خطے کے دیگر ممالک کی طرز پر قیمتی پتھروں اور جیولری کے لیے ‘برانڈ پاکستان’ قائم کرنے پر کام کیا جائے۔ اس کے علاوہ ویلیو ایڈیشن کے لیے سینٹرز آف ایکسیلنس کے قیام کا روڈ میپ بھی تیار کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے پائلٹ پروجیکٹس اور ماڈل مائنز کی راہ میں حائل تمام رکاوٹیں دور کرنے کا حکم دیا تاکہ منصوبے جلد مکمل ہوں۔
مستقبل کا لائحہ عمل اور حکومتی اقدامات
اجلاس کے دوران وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا کہ آزاد جموں و کشمیر اور اسلام آباد میں بھی منصوبے کے لیے اراضی کی نشاندہی کر لی گئی ہے۔ اسلام آباد میں سینٹر آف ایکسیلنس کی تعمیر تک متبادل جگہ پر سہولت کو فعال کیا جائے گا۔ اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ قیمتی پتھروں والے علاقوں کی جیولوجیکل میپنگ مکمل ہو چکی ہے جبکہ گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور خیبر پختونخوا میں 8 نئے بلاکس کی نشاندہی کی گئی ہے۔ یہ پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے ایکسپورٹ لیڈ گروتھ ناگزیر ہے، اور حکومت اس مقصد کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ اجلاس میں وفاقی وزراء جام کمال خان، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، احسن اقبال، احد خان چیمہ، عطا اللہ تارڑ اور علی پرویز ملک سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر وزیراعظم نے ہدایت کی کہ قیمتی پتھروں کے شعبے کی ترقی اور سینٹرز آف ایکسیلنس کے قیام کے لیے جامع ایکشن پلان اگلے ہفتے پیش کیا جائے۔ پاکستان کی فیشن اور ٹیکسٹائل برآمدات بڑھانے کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال اور صنعتی و تعلیمی اشتراک کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ معاشی استحکام حاصل کیا جا سکے۔
اہم سوالات و جوابات
قیمتی پتھروں کے شعبے کی ترقی کے لیے کتنا فنڈ مختص کیا گیا ہے؟
موجودہ مالی سال کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے تحت اس شعبے کی ترقی کے لیے 1 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔
برآمد کنندگان کے لیے حکومت نے کیا سہولیات فراہم کی ہیں؟
حکومت نے برآمد کنندگان کی سہولت کے لیے ملک کے 7 مختلف شہروں میں 10 بینکوں کی 80 برانچوں کے اندر ایکسپورٹ فیسیلی ٹیشن ڈیسک قائم کر دیے ہیں۔
