مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 18°C
پیر، 26 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.94 EUR/PKR 310.43 GBP/PKR 370.35 سونا/تولہ (عالمی) 258,500 PKR Bitcoin $79,937 USD/PKR 276.94 EUR/PKR 310.43 GBP/PKR 370.35 سونا/تولہ (عالمی) 258,500 PKR Bitcoin $79,937
قومی

وزیر اعظم شہباز شریف کی پیداواری شعبوں میں سیلز ٹیکس مانیٹرنگ سخت

📅 ✍️ ⏱ 4 منٹ
وزیر اعظم شہباز شریف کی پیداواری شعبوں میں سیلز ٹیکس مانیٹرنگ سخت
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ایف بی آر کی اصلاحات پر جائزہ اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں وزیرِ اعظم نے پیداواری سیکٹر کے تمام شعبوں میں سیلز ٹیکس کے لیے پیداوار کی نگرانی کا نظام رواں برس کے اختتام تک مکمل کرنے کی سخت ہدایت جاری کر دی۔ وزیرِ اعظم نے پیداواری شعبے کا تفصیلی جائزہ لے کر استعداد کا تخمینہ پیش کرنے والی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا اور ٹیم کے ارکان میں شیلڈز تقسیم کیں۔

پیداواری شعبوں میں خود کار نگرانی کے نظام کا نفاذ

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ چینی، سیمنٹ، تمباکو، ٹائلز اور کھاد کے شعبوں میں پیداوار کی نگرانی کا نظام مکمل طور پر نصب کیا جا چکا ہے۔ جبکہ ٹیکسٹائلز، پیکیجڈ پانی، پیکیجڈ جوس اور پیکیجڈ دودھ کے شعبے میں نگرانی کا نظام نصب کیا جا رہا ہے جس کے لیے آلات کی خریداری کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ اسٹیل، پولٹری اور ٹائرز کے شعبے میں آلات کی خریداری 15 اکتوبر جبکہ چائے، گھریلو الیکٹرانکس، چمڑے، کاغذ و بورڈ اور تیل و گھی کے لیے 30 اکتوبر تک خریداری مکمل کر لی جائے گی۔ ان تمام پیداواری شعبوں میں نگرانی کے نظام کو رواں برس 31 دسمبر تک مکمل فعال کر دیا جائے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ فیس لیس نظام کے تحت کیمروں کی مدد سے پیداوار کی نگرانی کو مؤثر بنایا جا رہا ہے، اس لیے کیمروں پر مشتمل پیداوار کی خود کار نگرانی کا سسٹم نصب کرنے میں تمام رکاوٹیں فی الفور دور کی جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو کاروبار صارف سے ٹیکس وصول کرکے اپنی جیب میں ڈال رہے ہیں وہ کسی رعایت کے مستحق نہیں۔

ٹیکس اصلاحات اور ایف بی آر کی کارکردگی

وزیرِ اعظم نے سیمنٹ کے شعبے میں پیداوار کی نگرانی کے نظام کی آڈٹ رپورٹ کی تعریف کی اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کو ہدایت کی کہ وہ باقی شعبوں میں بھی اس سسٹم کی مؤثریت جانچنے کے لیے آڈٹ کرے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس کی مکمل استعداد کے مطابق وصولی عوام کی صحیح معنوں میں خدمت ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ تین سال میں حکومتی اقدامات کی بدولت 1.3 ٹریلین روپے کا اضافی ٹیکس اکٹھا کیا گیا جو کہ ٹیکس وصولی میں 40 فیصد اضافہ ہے، یہ کامیابی انفورسمنٹ اقدامات کی بدولت ممکن ہوئی۔ اس سے قبل وزیراعظم نے خیبر پختونخوا کے امور پر بھی اہم اجلاس کیے تھے، جن میں ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان نئے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا تعینات کیے گئے تھے، جبکہ صوبائی سطح پر خیبر پختونخوا میں گورنر کی زیر صدارت 11 رکنی مشاورتی کونسل تشکیل دی گئی تھی۔

رضاکارانہ تعاون کرنے والی صنعتوں کی ستائش

وزیرِ اعظم نے ان صنعتوں کے کردار کو سراہا جنہوں نے حکومتی احکامات پر عمل کرتے ہوئے رضاکارانہ طور پر نگرانی کا نظام نصب کیا ہے۔ ان میں نشاط ملز، الکرم ٹیکسٹائل، الکرم کاٹن ملز، J.K سپننگ ملز، صورتی اینٹرپرائز، انٹرلوپ لمیٹڈ، فیصل سپننگ ملز، ابراہیم فائبرز لمیٹڈ، سفائر ٹیکسٹائلز لمیٹڈ اور نشاط چونیاں شامل ہیں۔ واضح رہے کہ حکومت صوبائی سطح پر انتظامی امور کو بھی بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہے جیسے کہ خیبر پختونخوا میں بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر ردوبدل، چیف سیکرٹری شہاب علی سمیت 4 افسران کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، ڈاکٹر مصدق ملک، احد خان چیمہ، شزہ فاطمہ خواجہ، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی اور مشیر وزیرِ اعظم ہارون اختر سمیت دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں