چیف جسٹس وفاقی شرعی عدالت نے ای لائبریری کا افتتاح کر دیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس جناب جسٹس ڈاکٹر سید محمد انور نے پیر کے روز اسلام آباد میں عدالت کی پرنسپل سیٹ میں جدید سہولیات سے آراستہ ای لائبریری کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ یہ اقدام عدالتی نظام کو بہتر فیصلہ سازی کے لیے چیونٹیوں کی اجتماعی ذہانت سے سبق لینے کے مترادف جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کی ایک کڑی ہے۔
ای لائبریری کی خصوصیات
نئی قائم کردہ ای لائبریری میں وکلاء اور سائلین کے لیے وسیع تر سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے وفاقی شرعی عدالت، پاکستان لاء سائٹ، برٹش کونسل لائبریری اور فقہ اکیڈمی جدہ تک رسائی کے لیے لاگ اِن کی سہولت موجود ہے۔ اس کے علاوہ، قانونی اور اسلامی حوالہ جات کو آسان بنانے کے لیے قرآن مجید اور احادیثِ مبارکہ سے متعلق مستند ویب سائٹس کے لنکس بھی فراہم کیے گئے ہیں، تاکہ تحقیق کے عمل کو سہل بنایا جا سکے۔
ڈیجیٹلائزیشن کا عمل
چیف جسٹس نے ای لائبریری کے قیام میں شامل افسران کی کاوشوں کو سراہا۔ اسی تسلسل میں وفاقی شرعی عدالت نے ‘ای آفس سسٹم’ کی جانب مکمل منتقلی کر لی ہے۔ عدالت کے دفتری امور کو مزید ڈیجیٹلائزڈ کرنے کی غرض سے ‘لیو ڈیش بورڈ’ اور ‘ای کیوسک’ بھی متعارف کرائے گئے ہیں، جس سے عدالتی کاموں میں شفافیت اور رفتار میں اضافہ ہوگا۔ یاد رہے کہ پشاور ہائیکورٹ کے چار ججز نے مستقل جج کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا ہے، جس کے بعد ملک بھر میں عدالتی اصلاحات کا عمل تیز تر ہو گیا ہے۔
ڈیجیٹل خواندگی اور مستقبل کے لائحہ عمل
جسٹس ڈاکٹر سید محمد انور نے نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے فیصلوں کی روشنی میں عدلیہ میں ڈیجیٹل خواندگی کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال ایک ایسے خودکار، مربوط اور فوری ردِعمل دینے والے نظامِ انصاف کی تشکیل کے لیے ناگزیر ہے جو وکلاء، سائلین اور عام شہریوں کی ضروریات کو احسن طریقے سے پورا کر سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح دنیا بھارت: کاکروچ جنتا پارٹی کا سرکاری سکولوں کی بہتری کیلئے آغاز جیسے جدید تجربات کر رہی ہے، ویسے ہی ہمیں بھی اپنے اداروں کو جدید بنانا ہوگا۔ عدالت مستقبل قریب میں اپنی لائبریری کے ذخیرۂ کتب اور دیگر نایاب کتب کو سرکاری ویب سائٹ پر منتقل کرنے پر بھی سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔
