مکہ دفاعی معاہدے میں اقتصادی شراکت داری کو شامل کیا جائے، اشرف بھٹی

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ آل پاکستان انجمن تاجران کے مرکزی صدر اشرف بھٹی نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ باہمی دفاعی معاہدے کے تحت تشکیل دئیے جانے والے مشترکہ سیاسی و عسکری فریم ورک کو مزید جامع بنایا جائے اور اس میں معاشی، تجارتی اور سرمایہ کاری تعاون کو بھی شامل کیا جائے۔
اقتصادی شراکت داری وقت کی اہم ضرورت
اپنے جاری کردہ بیان میں انہوں نے کہا کہ تینوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان مضبوط سیاسی و دفاعی روابط کے ساتھ ساتھ اقتصادی شراکت داری وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نئے صوبوں کے قیام کا فی الحال کوئی منصوبہ نہیں کے برعکس، انہوں نے تجویز دی کہ اس فریم ورک میں تینوں ممالک کے وزرائے تجارت، متعلقہ معاشی اداروں اور نجی شعبے کے نمائندوں کو بھی شامل کیا جائے تاکہ باہمی تجارت، سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں کے لیے عملی اور دیرپا حکمت عملی مرتب ہو سکے۔
تجارتی حجم میں اضافے کے امکانات
اشرف بھٹی نے مزید کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ باہمی تجارت کے حجم میں کئی گنا اضافہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ یاد رہے کہ عالمی سطح پر ایران کا چین کو تیل پہنچانے کے لیے ریل کا متبادل راستے پر غور، سمندری برآمدات میں 70 فیصد کمی جیسے اقدامات کے تناظر میں خطے میں تجارتی راستوں کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ تینوں ممالک کے درمیان تجارتی رکاوٹیں کم کی جائیں، بزنس ٹو بزنس روابط کو مضبوط بنایا جائے اور مشترکہ صنعتی و ٹیکنالوجی منصوبوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ معاشی فریم ورک کے تحت برآمدات میں اضافے، سرمایہ کاری کے فروغ، توانائی، دفاعی پیداوار، انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں امریکا کا چین پر ٹیرف سے بچنے کے لیے انڈیا سمیت دیگر ممالک کے ذریعے مصنوعات بھیجنے کا الزام جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ منصوبوں کا آغاز کیا جانا چاہیے۔
