مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
اتوار، 4 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.83 EUR/PKR 311.48 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 429,972 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,816 USD/PKR 276.83 EUR/PKR 311.48 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 429,972 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,816
قومی

امریکا کا چین پر ٹیرف سے بچنے کے لیے انڈیا سمیت دیگر ممالک کے ذریعے مصنوعات بھیجنے کا الزام

📅 اتوار، 16 اگست 2026 ✍️ Dost news ⏱ 7 منٹ
امریکا کا چین پر ٹیرف سے بچنے کے لیے انڈیا سمیت دیگر ممالک کے ذریعے مصنوعات بھیجنے کا الزام
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

امریکا کا چین پر ٹیرف سے بچنے کے لیے انڈیا سمیت دیگر ممالک کے ذریعے مصنوعات بھیجنے کا الزام

واشنگٹن: امریکی حکومت نے چین پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ امریکا کی جانب سے عائد بلند درآمدی محصولات سے بچنے کے لیے اپنی مصنوعات تیسرے ممالک کے ذریعے امریکی منڈی تک پہنچا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ایک نئی رپورٹ میں بھارت سمیت 40 سے زائد ممالک کو چینی مصنوعات کی ممکنہ منتقلی کے حوالے سے خطرے والے ممالک میں شامل کیا گیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے دفتر برائے تجارت و مینوفیکچرنگ پالیسی نے یہ رپورٹ 13 اگست 2026 کو جاری کی۔ 25 صفحات پر مشتمل رپورٹ کا عنوان "The Great Transshipment Scam: Rise, Scope, and Costs” ہے۔ رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ چینی برآمد کنندگان امریکی محصولات سے بچنے کے لیے تیسرے ممالک کے تجارتی راستے استعمال کرتے ہیں تاکہ مصنوعات کی اصل شناخت تبدیل یا چھپائی جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق بعض چینی مصنوعات کو پہلے دوسرے ممالک منتقل کیا جاتا ہے، جہاں ان کی معمولی اسمبلنگ، پیکنگ، لیبلنگ یا دستاویزات میں تبدیلی کی جاتی ہے۔ اس کے بعد انہیں امریکا میں ایسے ملک کی مصنوعات کے طور پر درآمد کیا جاتا ہے جس پر چین کے مقابلے میں کم محصولات عائد ہوتے ہیں۔

امریکی رپورٹ کے مطابق 2025 میں چین سے امریکا جانے والی تقریباً 67 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات میکسیکو، بھارت اور ویتنام جیسے بڑے تجارتی مراکز کے ذریعے منتقل ہوئیں۔ وائٹ ہاؤس کا اندازہ ہے کہ اس طرح کی مبینہ ٹیرف چوری کے نتیجے میں امریکی حکومت کو تقریباً 28 ارب ڈالر کے ممکنہ محصولات سے محرومی کا سامنا کرنا پڑا۔

امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مسئلہ صرف چند ممالک تک محدود نہیں بلکہ 40 سے زائد ممالک پر مشتمل ایک وسیع تر عالمی تجارتی نیٹ ورک موجود ہے۔ وائٹ ہاؤس کے تجارتی مشیر پیٹر ناوارو نے الزام عائد کیا ہے کہ چینی مصنوعات کو مختلف ممالک کے ذریعے امریکا بھیج کر ان کی اصل چھپائی جاتی ہے تاکہ زیادہ امریکی محصولات سے بچا جا سکے۔

بھارت بھی امریکی رپورٹ میں شامل

رپورٹ میں بھارت کو بھی ان ممالک میں شامل کیا گیا ہے جہاں سے چینی مصنوعات کی ممکنہ ٹرانس شپمنٹ کا خطرہ موجود ہے۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارت کو رپورٹ میں زیادہ خطرے والے ممالک کے گروپ میں رکھا گیا ہے۔

تاہم امریکی رپورٹ میں بھارتی حکومت پر براہ راست یہ الزام نہیں لگایا گیا کہ وہ جان بوجھ کر چینی مصنوعات کو امریکی محصولات سے بچنے میں مدد فراہم کر رہی ہے۔ رپورٹ میں بھارت سمیت مختلف ممالک کو ایسے تجارتی مراکز کے طور پر بیان کیا گیا ہے جنہیں چینی برآمد کنندگان ممکنہ طور پر اپنی مصنوعات کی منتقلی کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

بھارتی تجارتی تحقیقاتی ادارے گلوبل ٹریڈ ریسرچ انیشی ایٹو نے امریکی دعوے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن نے بھارت کی کسی مخصوص کمپنی یا شپمنٹ کو ٹیرف چوری میں ملوث ہونے کا ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا۔

ادارے کے مطابق 67 ارب ڈالر کا مجموعی تخمینہ میکسیکو، بھارت اور ویتنام سمیت بڑے تجارتی مراکز کے ذریعے ممکنہ منتقلی سے متعلق ہے، تاہم امریکی رپورٹ میں بھارت کے حصے کی الگ سے وضاحت نہیں کی گئی۔

بھارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھارتی مصنوعات میں چینی خام مال یا پرزوں کا استعمال لازماً اسے چینی ساختہ مصنوعات قرار نہیں دیتا۔ کسی مصنوعات کا اصل ملک متعین کرنے کے لیے اس کی تیاری کے مراحل اور متعلقہ تجارتی قوانین کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

امریکا کو اربوں ڈالر کے محصولات کے نقصان کا خدشہ

وائٹ ہاؤس کے مطابق چینی مصنوعات کی تیسرے ممالک کے ذریعے مبینہ منتقلی کے باعث امریکی حکومت کو سالانہ 19 سے 26 ارب ڈالر تک محصولات کے ممکنہ نقصان کا سامنا ہو سکتا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ 2018 میں چین پر اضافی محصولات عائد کیے جانے کے بعد چینی برآمد کنندگان کی جانب سے تیسرے ممالک کے ذریعے مصنوعات امریکا بھیجنے کے رجحان میں اضافہ ہوا۔ واشنگٹن کے مطابق بعض معاملات میں مصنوعات میں معمولی تبدیلیاں کرکے انہیں دوسرے ملک کی ساختہ ظاہر کیا جاتا ہے۔

مصنوعی ذہانت سے نگرانی کا منصوبہ

امریکی حکومت نے مبینہ ٹیرف چوری کی روک تھام کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک نظام بھی متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔ "Detective Border” نامی نظام عالمی تجارتی اعداد و شمار کا تجزیہ کرکے مصنوعات کے مشکوک راستوں، اصل ملک سے متعلق معلومات اور اجزا کے ذرائع میں غیر معمولی نمونوں کی نشاندہی کرے گا۔

امریکی حکام کے مطابق مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام کی مدد سے ایسی درآمدات کی نشاندہی کی جا سکے گی جن میں مصنوعات کے اصل ملک کے بارے میں غلط معلومات فراہم کیے جانے کا شبہ ہو۔

چین امریکا تجارتی کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ

یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور چین کے درمیان تجارت اور درآمدی محصولات کے معاملے پر کشیدگی برقرار ہے۔ امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ چین پر عائد محصولات کے باوجود چینی مصنوعات مختلف تجارتی راستوں سے امریکی منڈی تک پہنچ رہی ہیں، جس سے امریکی صنعتوں اور مقامی مینوفیکچررز کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

رپورٹ میں امریکا کے اتحادیوں اور بڑے تجارتی شراکت داروں سمیت 40 سے زائد ممالک کو ممکنہ ٹرانس شپمنٹ مراکز کے طور پر نشان زد کیا گیا ہے۔ تاہم ان ممالک کو براہ راست چین کے ساتھ مل کر ٹیرف چوری میں ملوث قرار نہیں دیا گیا بلکہ امریکی حکومت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ چینی برآمد کنندگان ان ممالک کے تجارتی نظام کو امریکی محصولات سے بچنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ دستیاب امریکی رپورٹ میں بھارت کا ذکر موجود ہے، لیکن بھارت اور اسرائیل دونوں کو چین کی مصنوعات امریکا پہنچانے کے مخصوص راستوں کے طور پر پیش کرنے کا دعویٰ درست نہیں۔ رپورٹ میں نمایاں طور پر میکسیکو، بھارت اور ویتنام کو بڑے ممکنہ ٹرانس شپمنٹ مراکز کے طور پر زیر بحث لایا گیا ہے۔

SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں