جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کا زمین سے دور حیات کے آثار کا انکشاف

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ دنیا بھر کے سائنسی اور خلائی حلقوں میں اس وقت ایک ہی خبر سرِ فہرست اور ٹاپ ٹرینڈ بنی ہوئی ہے—امریکی خلائی ادارے ناسا (NASA)، یورپی خلائی ایجنسی (ESA) اور کینیڈین اسپیس ایجنسی کی مشترکہ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ (JWST) نے نظامِ شمسی سے باہر موجود ایک بعید سیارے (Exoplanet) کے کرہِ ہوائی میں مائع پانی کی موجودگی اور ایسے کیمیائی اجزاء کا پتہ چلا لیا ہے جو وہاں زندگی کے وجود کا مضبوط ثبوت فراہم کرتے ہیں۔ اس سنسنی خیز اور تاریخی انکشاف نے دنیا بھر کے محققین، فلکیات دانوں اور عوام کی توجہ کو اپنی طرف مبذول کر لیا ہے، کیونکہ انسان صدیوں سے جس سوال کا جواب تلاش کر رہا تھا کہ "کیا اس کائنات میں ہم اکیلے ہیں؟”، اب اس کا جواب ملنے کے انتہائی قریب پہنچ چکا ہے۔
ناسا کی جدید ٹیکنالوجی اور سیارہ K2-18b
ناسا کے سائنسدانوں کے مطابق جدید ترین انفراریڈ ٹیکنالوجی سے لیس جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نے "K2-18b” نامی سیارے کا مشاہدہ کرتے ہوئے اس کے فضائی ماحول کا تفصیلی تجزیہ کیا۔ یہ سیارہ زمین سے تقریباً 120 نوری سال کے فاصلے پر برجِ اسد (Leo Constellation) میں واقع ایک بونے ستارے کے گرد چکر لگا رہا ہے۔ سائنسدانوں نے تصدیق کی ہے کہ اس سیارے کی فضا میں نہ صرف پانی کے بخارات کی کثافت پائی گئی ہے بلکہ وہاں میتھین اور کاربن ڈائی آکسائیڈ جیسی گیسوں کا بھاری تناسب بھی موجود ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس سیارے پر ایک خاص نامیاتی مادے ‘ڈائی میتھائل سلفائڈ’ (DMS) کے اثرات بھی دیکھے گئے ہیں، جو کہ زمین پر صرف اور صرف زندہ نامیاتی خلیوں اور سمندری حیات (Plankton) کے ذریعے ہی پیدا ہوتا ہے۔ اس ضمن میں پنجاب کو جنوبی ایشیا کا بڑا اے آئی ہب بنانے کا اعلان جیسے ٹیکنالوجی اقدامات کی طرح یہ خلائی تحقیق بھی انسانیت کے لیے نئی راہیں کھول رہی ہے۔
ہائی سیئن سیارے اور حیات کی نشوونما
سائنسی اصطلاح میں اس قسم کے سیاروں کو "ہائی سیئن” (Hycean Worlds) کہا جاتا ہے—یعنی ایسے سیارے جہاں ہائیڈروجن سے بھرپور فضا اور سطح پر مائع سمندر موجود ہوتے ہیں۔ جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نے جب اس سیارے کی روشنی کا اسپیکٹرم (Spectroscopy) حاصل کیا، تو معلوم ہوا کہ یہ سیارہ اپنے ستارے سے بالکل اتنے مناسب فاصلے پر موجود ہے جسے فلکیات میں "گولڈی لاکس زون” (Habitable Zone) کہا جاتا ہے۔ اس زون میں نہ تو اتنی شدید گرمی ہوتی ہے کہ پانی ابلا جائے اور نہ اتنی شدید سردی کہ سب کچھ جم جائے، بلکہ پانی مائع حالت میں موجود رہتا ہے، جو حیات کی نشوونما کے لیے بنیادی شرط ہے۔ جیسے کہ برطانوی محقق ڈاکٹر مارک سی تھامپسن کا قبول اسلام کا سفر میں ایک علمی جستجو نظر آتی ہے، اسی طرح یہ خلائی دریافت بھی انسانی علم کے افق کو وسیع کر رہی ہے۔
مستقبل کا لائحہ عمل اور اہمیت
اس دریافت کے سامنے آتے ہی عالمی میڈیا، سائنس کے جریدوں اور سوشل میڈیا پر ایک انقلاب برپا ہو گیا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ دریافت ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ حیات کے لیے صرف زمین جیسی ساخت ہونا ہی ضروری نہیں، بلکہ کائنات میں کئی مختلف حالات و واقعات کے تحت بھی حیات پنیپ سکتی ہے۔ ناسا کے اعلیٰ حکام کے مطابق، جیمز ویب اب اس سیارے کا مزید گہرائی سے مطالعہ کرے گی تاکہ اس بات کی حتمی تصدیق کی جا سکے کہ آیا ان گیسوں کا ماخذ واقعی کوئی نامیاتی یا حیاتاتی عمل ہی ہے یا اس کے پیچھے کوئی نایاب کیمیائی ردِعمل موجود ہے۔ دنیا بھر کے مفکرین اور سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ 21ویں صدی کا یہ سب سے بڑا اور یادگار انکشاف ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کے یہ نتائج سو فیصد درست ثابت ہو جاتے ہیں، تو انسانی تاریخ میں پہلی بار ہمارے پاس اس بات کا سائنسی اور بلاشبہ ثبوت ہوگا کہ کائنات کی اس بے انتہا وسعت میں زمین واحد ایسا مقام نہیں ہے جہاں حیات سانس لے رہی ہے، جبکہ اختیار ملے تو کردار بھی بلند ہونا چاہیے: حکمرانی کا سبق کے اصولوں کے مطابق اب انسانیت کو کائنات میں اپنی ذمہ داریوں کو بھی سمجھنا ہوگا۔
