مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 3 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 430,384 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,507 USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 430,384 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,507
تازہ ترین

پنجاب کو جنوبی ایشیا کا بڑا اے آئی ہب بنانے کا اعلان

📅 ہفتہ، 15 اگست 2026 ✍️ Dost news ⏱ 5 منٹ
تصویر
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں حکومتِ پنجاب نے صوبے کو جدید ترین الگورتھمز، مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) اور ڈیجیٹل گورننس کے دور میں داخل کرنے کے لیے ایک اور تاریخی پیش رفت کا آغاز کر دیا ہے۔ پنجاب کو جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا اور فعال AI-Enabled خطہ بنانے کے لیے عملی اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں، جس کے تحت سرکاری امور، عوامی خدمات اور معاشی ترقی کے نظام کو مکمل طور پر جدید ترین سمارٹ اور خودکار الگورتھمز سے لیس کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف سے صوبائی مشیر برائے مصنوعی ذہانت علی مصطفیٰ ڈار نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں ملاقات کی، جس میں اہم فیصلوں پر حتمی مشاورت کی گئی۔

پنجاب AI ویژن 2029 کی تفصیلات

اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو "پنجاب AI Vision 2029” کی باضابطہ لانچنگ، اس کے اہداف اور اس سمارٹ روڈ میپ کی تفصیلات پر جامع بریفنگ دی گئی۔ اس جدید وژن کے تحت پنجاب میں دنیا کا پہلا اپنی نوعیت کا خصوصی AI-Enabled Delivery Unit قائم کیا جا رہا ہے جو حکومتی پالیسیوں کی نگرانی، انتظامی فیصلوں کی شفافیت اور عوام کو سہولیات کی تیز رفتار فراہمی کے لیے مصنوعی ذہانت کی جدید ترین تکنیک کا استعمال کرے گا۔ یہ ڈلیوری یونٹ حکومتی محکموں کی کارکردگی کا ڈیٹا کی بنیاد پر تجزیہ کرے گا اور روایتی کاغذی کارروائی کے بجائے ڈیجیٹل فیصلے سیکنڈوں میں ممکن بنائے گا، جیسے ماضی میں نادرا نے کیو آر کوڈ پر مبنی نیا قومی شناختی کارڈ متعارف کرا دیا جس نے ڈیجیٹل سہولت کاری کی ایک نئی مثال قائم کی۔

مصنوعی ذہانت کے ذریعے شفاف گورننس کا قیام

پنجاب کے اس جامع اے آئی ایجنڈے کو بلا تاخیر اور شفاف طریقے سے عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی ماہر ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ علاوہ ازیں، عالمی سطح پر آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے معروف ماہرین اور بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے ایک خصوصی آن بورڈنگ پروگرام بھی تیار کیا گیا ہے جو سرکاری افسران، نوجوان ٹیکنوکریٹس اور طلبہ کو اس نئی سمارٹ فریم ورک کے مطابق تربیت فراہم کرے گا۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام ضلعی اور صوبائی سطح کے محکموں کو اس نئے سمارٹ نظام سے تیزی سے منسلک کیا جائے تاکہ شہری خدمات کی فراہمی میں ڈرامائی بہتری لائی جا سکے۔ اس سے قبل حکومت نے دیگر اہم شعبوں میں بھی اصلاحات متعارف کرائی ہیں، جیسے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی سیلاب متاثرین کو فوری ریلیف فراہم کرنے کی ہدایت پر عملدرآمد کے لیے بھی ڈیجیٹل ٹریکنگ کا نظام موثر ثابت ہو سکتا ہے۔

نوجوانوں کے لیے روزگار اور معاشی استحکام

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت کا مقصد پنجاب کو روایتی انتظامی ڈھانچے سے نکال کر ایک جدید اور عالمی معیار کا ڈیجیٹل صوبہ بنانا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے گورننس میں بہتری، بدعنوانی کا خاتمہ اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن بنائی جائے گی۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ پنجاب کے نوجوانوں کے پاس بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں، اور اس اے آئی ایجنڈے کے ذریعے نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ پنجاب جنوبی ایشیا میں ٹیکنالوجی کا نیا تعلیمی و معاشی مرکز بن کر ابھرے گا۔ حکومت کے حالیہ اقدامات کو دیکھیں تو آرمی چیف کا یوم آزادی پر پاک فوج کے سابق فوجیوں کے اعزاز میں استقبالیہ جیسے ایونٹس قومی یکجہتی کے عکاس ہیں، جنہیں اب ٹیکنالوجی کی مدد سے مزید مربوط کیا جائے گا۔

ماہرین کی جانب سے اقدام کو سراہا گیا

سیاسی و معاشی تجزیہ کاروں اور ٹیکنالوجی کے ماہرین نے پنجاب حکومت کے اس جرات مندانہ اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ 21ویں صدی میں مصنوعی ذہانت کا موثر استعمال ہی پائیدار ترقی کی ضمانت ہے۔ "پنجاب AI ویژن 2029” اور ورلڈ کلاس ڈیجیٹل ڈلیوری یونٹ کا قیام نہ صرف پاکستان کے گورننس ماڈل کو تبدیل کرے گا بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ملک اور صوبے کے اعتماد و وقار میں نمایاں اضافہ کرے گا۔

ٹیگز: #AI ویژن 2029 #پنجاب #ڈیجیٹل پاکستان #مریم نواز #مصنوعی ذہانت
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں